July 2019


اسلام علیکم علیکم دوستو 
یہ دنیا عجائبات سے بھری پڑی ہے قدرتی مناظر ہوں یا ان میں چھپے حقائق سب کو دیکھ اور سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن میں ہمیں جا بجا قدرت پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے انسان چاہے جتنی بھی ترقی کر لے لیکن قدرت کے ان شاہکاروں کے آگے اس کی طاقت کم پڑ جاتی ہے اور یہی وجہ انسا ن کو ایسے عجائبات کی کھوج میں لگائے رکھتے ہیں جس سے وہ نا واقف ہے ۔ دوستوں آج کا ہمارا پر ٹاپک بھی آپ کو انہی عجائبات سے گزارتے ہوئے دنیا کے اس پر اسرار مقام پر لے جائے گا جسے ایمازون فارسٹ یا ایمزونیاں اور ایمازون جنگل کہتے ہیں جنوبی امریکہ میں ایمزون تاس پر محیط ایک برساتی جنگل ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا جنگل ہے جو دریائے ایمزون اور اس کے معاون دریاؤں کےگرد پھیلا ہوا ہے اس کا رقبہ 25 لاکھ مربع میل یعنی تقریبا پورے آسٹریلیا کے برابر ہیں اور اس کے دریا کا نظارہ 208 میل کی دوری سے بھی دیکھا جاسکتا ہے خواتین و حضرات اس جنگل کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں 400 سے 500 قبائل کا بسیرا ہے جن میں سے پچاس ایسے قبائل ہیں جن کا باہر کی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ وہ انسانی دنیا سے ناواقف ہیں۔ یہ لوگ تیر کمان سے مچھلی کا شکار کرتے ہیں اور بندروں کو اپنی غذا بناتے ہیں اس کے علاوہ یہاں کی زرخیز آب و ہوا میں عجیب و غریب قسم کے جانور پائے جاتے ہیں کہا یہ جاتا ہے کہ ایمازون کی مکڑیاں اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ پرندے پکڑ لیتی ہیں اس کے علاوہ ان جنگلات میں سب سے بڑی تبدیلیاں اور اس کے علاوہ دنیا کے تمام پرندوں کی آدھی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ اس جنگل میں 1300 پرندوں 40000 پودوں اور 3000 مچھلیوں کی اقسام کے علاوہ جہاں چارسو تین قسم کے میملز اور 5.2 ملین حشرات الارض پائے جاتے ہیں ہیں اس کے علاوہ ایمزون کو حیرت انگیز اور خوفناک مخلوق کا گھر بھی کہا جاتا ہے جس میں الیکٹرک خونی جانور زہریلے مینڈک اور زہریلے سانپ یعنی اینا کونڈا وغیرہ شامل ہیں۔ دوستو اینا کونڈا سانپ جنوبی امریکہ میں پایا جانے والا ایک طرح سے اس دنیا کا سب سے بڑا سانپ مانا جاتا ہے عام طور پر اس کی لمبائی 5 سے 6 میٹرہوتی ہیں لیکن کچھ ایناکوڈا تو دس میٹر کی لمبائی تک پہنچ جاتے ہیں اور اب تک جو سب سے لمبا اینا کونڈا کولمبیا میں پکڑا گیا تھا جس کی لمبائی43،11 میٹر تھی اور یہ کئی گنا زیادہ موتا تھا اس کے علاوہ انسان کو نگلنے والے اینا کونڈا کی کہانیوں پر یقین کرنا تو مشکل ہے لیکن سانپوں کا جائزہ لینے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑے سائز کے اینا کوڈا کم از کم ایک بچے کو نگل سکتے ہیں لیکن ان کی تعداد آج بھی نمک کے برابر ہے ۔ جب امریکہ کے ایک سابق صدر نے اعلان کیا تھا کہ جو کوئی انہیں دس میٹر لمبا اینا کونڈا لاکر دے گا تو وہ ا سے پانچ ہزار ڈالر انعام دیں گے لیکن کسی نے دس میٹر لمبا سانپ پیش ہی نہیں کیا ایسا اس لیے ہوا کیونکہ اتنی لمبائی کے اینا کونڈا بہت کم ہوتے ہیں اور مشکل سے ملتے ہیں خواتین و حضرات یہ سانپ تقریباً ساٹھ ملین برس قبل کولمبیا کے رین فارس میں پایا جاتا تھا محقیقین کے مطابق یہ سانپ اتنا چوڑا تھا کہ ایک عام فرد کے شخص کے کولوں تک پہنچ سکتا تھا اور اس کا وزن ایک اندازے کے مطابق ایک ٹن سے زائد تھا۔ واضح رہے کہ سبزایناکوڈا جس کو دنیا کا وزنی ترین سانپ کہا جاتا ہے اس کا وزن ڈھائی سو کلو گرام ہے جب کہ پیتھن جس کو طویل ترین سانپ کہا جاتا ہے اس کی لمبائی 32فٹ ہے اور اس کے بعد اگر ہارر مُنکی کا ذکر کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر موجود جانوروں میں اگر کوئی سب سے زیادہ چیخنے چلانے اور شور مچانے کے لیے مشہور ہے وہ جنوبی امریکہ کا بندر ہے ۔ ناظرین گرامی سرخ اور سیاہ رنگ کے ان بندروں کو ان کی خصوصیت کی بنا پر ہارر مونکی یعنی چیخنے چلانے والا بندر کہہ کر پکارا جاتا ہے جنوبی امریکا کے جنگلوں میں پائے جانے والے یہ بندر عام طور پر گروپ کی شکل میں رہتے ہیں ہر گروپ میں دس سے پندرہ بندر شامل ہوتے ہیں اور ہر گروپ کا اپنا ایک مخصوص علاقہ ہوتا ہے اور اگر کسی دوسرے گروپ بندر ان کے علاقے میں گھس جائے تو یہ چیخ چیخ کر اسے اپنے علاقے سے نکال دیتے ہیں ان کے چیخنے چلانے کی آوازیں اس قدر شدید ہوتی ہیں کہ پانچ کلو میٹر تک بآسانی سمجھی جاسکتی ہیں ۔ اس کے بعد تیندوا کا نمبر آتا ہے۔جو ایک بڑا طاقتور کالے دھبوں والا گوشت خور شیر نما جانور ہے جسے جیگوار بھی کہا جاتا ہے دراصل چیتے سے مشابہت رکھنے والا یہ جانور بلی کی نسل فیلی ڈی سے تعلق رکھتا ہے اس کا شمار دنیا کی چار بڑی بلیو میں سے ہوتا ہے یہ وزن میں چیتے سے بھاری ہوتا ہے اور اس کا سر چیتے سے بڑا ہوتا ہے ہے دوستو اس کے علاوہ بھی جنگل میں ایسی مافوق الفطرت مخلوقات پائی جاتی ہیں جن کا تصور انسانی دماغ سے باہر ہیں یہ جنگل اپنے آپ میں ایک مثال ہے اور اس کی سب سے بڑی اور منفرد بات جو زمین پر اس کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے وہ یہ کہ ہمیں زندہ رکھنے کے لیے دنیا کو بیس فیصد آکسیجن اسی جنگل سے حاصل ہو رہی ہے اور شاید اسی وجہ سے اسے لنگز آف ارتھ کا نام دیا جاتا ہے اور کہاں جاتا ہے اس جنگل میں درختوں پر کھناؤ اتنا ہے کہ بارش کا پانی بھی زمین پر گرنے میں دس منٹ لگا دیتا ہے۔


 وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو ملک کی جمہوری تاریخ میں ایک سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔تاریخ نے اعتراف کیا ہے کہ قائد جمہوریت کو بے جرم ہی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ تاہم یہاں ان کی زندگی کے آخری چند گھنٹوں کے حوالے سے
کچھ حیران کن معلومات دی جا رہی ہیں۔ملکی تاریخ کے معروف ترین صحافی ادیب جاودانی نےلکھا ہےکہ جب اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے جیل سپرنٹنڈنٹ یار محمد کو حکم جاری کر دیا جائے گا بھٹو کو دوبجے پھا نسی دے دی جائے تو یار محمد نے اپنے ماتحتو ں کاظم بلوچ اور مجید قریشی کو حکم دیا کہ کال کوٹھڑی میں بند بھٹو کو پیغام پہنچا دو کہ دو بجے ان کو پھانسی دے دی جائے گی۔ یہ بھی ہدایت کی گئی کہ اگر وہ کوئی وصیت لکھنا چاہتے ہوں تو انھیں کاغذ اور قلم فراہم کر دیا جائے۔ اس پر مجید قریشی ان کے پاس آیا اور بتایا کہ مجھے افسوس ہے کہ آپ کی زندگی کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔جس پر بھٹو نے غیر یقینی انداز میں مجید قریشی کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ کیا نصرت کی ضیا الحقسے ملاقات نہیں ہوئی؟ نفی میں جواب ملنے پر انھوں نے دوبارہ پوچھا کہ کیا واقعی وہ ایسا کرنے والے ہیں؟ مجید قریشی نے بتایا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ میں وصیت کے لیئےکاغذ اور قلم آپ کو دے دوں۔مجید قریشی وہاں سے چلا گیا اور بھٹو کافی دیر تک ان پرکچھ لکھتے رہے اورپھر سارے کاغذ پھاڑ ڈالے۔رات ایک بجے
مجید قریشی دوبارہ کال کوٹھڑی میں آیا ۔ اس نے دیکھا کہ ذوالفقار بھٹو بالکل بے حس و حرکت پڑے ۔وہ گھبرا گیا اور بھاگ کر جیل حکام کو بلا لایا۔سب نے آکر بھٹو کو دیکھا ان کی نبض دیکھی تومعلوم ہوا کہ وہ سو رہے ہیں۔انھیںجگایا گیا اور بتایا گیا کہ ان کے آخری غسل کےلئے پانی تیار ہے۔انھوںنے جوا ب دیا کہ وہ پاک ہیں۔ اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ وہ پھانسی کے تختے تک جا سکیں گے یا سٹریچر منگوایا جائے ۔جس پر انھوں نے تعاون سے صاف انکار کر دیااور انھیں سٹریچر پر لے جایا گیا۔ انھوںنے اداسی سے جیل کی کال کوٹھڑی پر نگاہ ڈالی۔ وہاں سے انھیں تختے تک لے جایا گیا۔تارا مسیح نے ان کے چہرے پر ماسک چڑھایا۔ اور ان کے منہ سے نکلنے والے آخری الفاظ تھے ۔” فنش” جس کے بعد تاریخ کے عظیم لیڈر کا باب تمام ہو گیا۔ فنش” جس کے بعد تاریخ کے عظیم لیڈر
کا باب تمام ہو گیا۔
شخص جسکی عمر تو 44سال مگر سر کے بال جھڑنا شروع ہوچکے ‘بالوں کی رنگت بھوری ہورہی ‘گہری پلکیں ‘ ہونٹ حتیٰ کہ آنکھوں کی پتلیاں تک تھکاوٹ زدہ اورآنکھوں میں عجیب سی اداسی جبکہ مسکراہٹ میں شرمیلا پن ‘ذوالفقار بھٹو کے ساتھ صرف 6دن گزار کر ہی میں اس نتیجے پر پہنچ گئی کہ وہ تضادات کا مجموعہ ‘جیسے سانگھڑ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے غصے اور جو ش سے دونوں بازو لہراتے وہ ایسے شخص جنہیں تالیوں اور طاقت سے پیار ‘ ہالہ کے لان میں لوگوں کو گھنٹوں انتظار کروا کر’ خوبصورت قالینوں پر شہزادوں کی طرح چلتے پھرتے ‘ انگلی کے اشارے سے لوگوں کو اپنی طرف بلاتے اور بکرے کا صدقہ دیتےوہ ایسے انسان جن کا تعلق طبقہ اشرافیہ سے’ ملٹری ہیلی کاپٹر میںچواین لائی کی دی ٹوپی پہنے میرے سامنے وہ مارکسٹ بھٹو ‘جوپاکستان کو غربت اور بھوک سے آزاد کرانے کے خواہشمند مگر اپنی کامیابی جنہیں ہر شے سے عزیز اور پرانے ایرانی قالینوں ‘ائیر کنڈیشنوں اور عالمی رہنماوں کے ساتھ کھینچی تصویروں سے بھرے راولپنڈی اور کراچی کے گھروںمیں میری ملاقات ایسے بھٹو سے ہوئی جو اندرا گاندھی ‘مجیب الرحمان اور یحییٰ خان سمیت اپنے سیاسی دشمنوں پر حملے کر رہے ‘ جو خوبصورت باتیں کرنے اور کتابیں پڑھنے
کے شوقین ۔ایک دن بھٹو صاحب بولے ” شیخ مجیب پیدائشی جھوٹا ‘جھوٹ اسکی فطرت میں ‘ وہ بیمار ذہن کا جنونی ‘ مجھ پر یہ جھوٹا الزام لگادیا کہ بنگالیوں کی قتل وغارت یاوحشیانہ تشدد میں نے کروایا’ یہ چھوڑیں اس نے تو ایک بار سمندری طوفان میں مرنے والوں کا الزام مجھ پر لگا دیا ‘جیسے سمندری طوفان میں نے بھیجا ‘ پھر وہ یہ سفید جھوٹ بھی بول چکا کہ جب گرفتار ہوا تو اس نے مقدمے کو ا س قابل ہی نہ سمجھا کہ دفاع کرے اور اسے جیل کے سیل میں رکھا گیاسچ یہ کہ بروہی سمیت 4وکلا ء نے اس کا کیس لڑا اور اسے تمام سہولتوں سے مزین ایپارٹمنٹ میں رکھاگیا ‘ ہاں میں مانتا ہوں کہ بنگالیوں کو قتل کیا گیا ‘ان پر تشدد ہوااور سب کچھ احمقانہ اور وحشیانہ انداز میں ہوا ‘اگر میں یہ کرتا تو اسے زیادہ سمجھداری ‘تھوڑے وحشیانہ پن اور زیادہ سائنسی انداز میں کرتا ‘ مجھے اچھی طرح یاد کہ میں ڈھاکا کے ہوٹل میں سویا ہوا تھاکہ اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے آنکھ کھلی ‘میں نے اپنے دوستوں کے کمروں سے بھاگنے کی آوازیں سنیں ‘ میں اُٹھ کر کھڑکی کی طرف گیا ‘پردہ ہٹایا’سامنے دیکھا اور روپڑا ‘میرے منہ سے بس اتنا نکلا My country is finished۔ جب میرے حکم پر مجیب کو رہا کر کے میرے پاس راولپنڈی لایاجانے لگا تو یہ سوچ کر اسے شاید مارنے کیلئے لے جایاجارہا ‘وہ خوفزدہ ہو کررونے لگا ‘ خیراسے راولپنڈی کے ایک بنگلے میں پہنچاکر مجھے بتایا گیا ‘ میں ریڈیو ‘ٹیلی ویژن ‘ اور کپڑے لے کر اسکے پاس گیا



 حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کےمطابق رات کو نیند کیوں ٹھیک سے نہیں آتی


دوستوں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک شخص آتا ہے اور عرض کرتاہے اے علی رضی اللہ تعالی عنہ مجھے رات کو ٹھیک سے نیند
 نہیں آتی رات کو سو نہیں پاتا اور جب صبح اٹھتا ہوں تو پورے جسم میں درد رہتا ہے اور وہ درد بڑھتا رہتا ہے ۔جب وہ اپنا درد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بیان کر چکا تو انہوں نے اس شخص سے فرمایا کہ اے شخص اگر تم رات کو پانی پیتے ہو تو پانی پینا بند کردو کیونکہ ایسا کرنا صحت کے لیے انتہائی نامناسب ہے اور رات کو پانی پینے سے جسم میں ایسا درد شروع ہوجاتا ہے۔ اگر اللہ پاک اسے شفا دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ورنہ اس کا علاج ناممکن ہے ۔
دوستو پانی جسم کے لیے ایک بہت اہم چیز ہے ۔جب ہم مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتے تو ہمارے جسم سے پانی خوشک ہو جاتا ہے اور اکثر رات کے وقت میں پانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور اکثر لوگ رات کو نیند سے اٹھ کر پانی پیتے ہیں ۔لیکن اب جدید میڈیکل سائنس نے بھی رات کے وقت پانی پینے سے منع کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ بستر پر جانے سے قبل پانی کا استعمال نیند کو متاثر کرتا ہے اور اس عادت کے نتیجے میں رات کو بیت الخلا کے لئے بار بار اٹھنا پڑتا ہے اور جب انسان گرم بستر سے ایک دم واش روم جاتا ہے تو جسم ٹھنڈا پڑجاتا ہے ۔جو صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اور دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق گردوں کے ساتھ ہیں آپ سب جانتے ہی ہونگے کہ رات کو گردے اپنے کام میں بہت آہستہ ہوجاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد صبح اٹھنے پر چہرے اور ہاتھوں پر سوجن کا شکار ہوتے ہیں ہیں۔ اس لیے رات کو سونے سے قبل پانی پینا ایسے افراد کے لیے مسئلہ پڑھا سکتا ہے اور تیسری بڑی وجہ اگر آپ سونے سے قبل پانی پیتے ہیں تو یہ آپ کی نیند میں مداخلت کا سبب بنتا ہے ۔وزن کم کرنے کے لیے پانی کی طرح نیند بھی ایک اہم چیز ہے اور میڈیکل سائنس بھی یہی کہتی ہے کہ چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند ہماری زندگی میں ایک تبدیلی لا سکتی ہیں ۔سائنس کے مطابق وہ لوگ جو کم سوتے ہیں اور وہ لوگ جو زیادہ نیند لیتے ہیں ۔ان کے وزن بڑھنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
 خواتین و حضرات اسی طرح کھڑے ہو کر پانی پینا اخلاقیات کے خلاف سمجھا جاتا ہے اور اس حوالے سے اب ماہرین بھی بہت سے مشورے دے رہے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق کھڑے ہو کر پانی پینے سے نہ صرف ہماری سانس میں کھچاؤ پیدا ہوتا ہے بلکہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے آپ کے پینے کی رفتار تیز ہو جاتی ہیں ۔جس کی وجہ سے جوڑوں کو نقصان پہنچتا ہے ہے ماہرین کے مطابق جس طریقے سے ہم آہستہ آہستہ کھانا کھاتے ہیں۔ اسی طرح پانی بھی آرام سے بیٹھ کر اور آہستہ آہستہ پینا چاہیے جلدی جلدی پانی پینے سے جسم میں آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے ۔جس سے دل اور پھیپھڑوں کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اس لیے ماہرین ہمیں اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے بیٹھ کر سکون سے پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں ۔جب ہم کھڑے ہوکر پانی پیتے ہیں تو یہ معدے کی دیوار سے ٹکراتاہے اور لہر کی شکل میں نیچے جاتا ہے یہ لہر معدے کی دیوار اردگرد موجود اجزاء اور غذائی نالی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہیں ہیں طویل مدت تک یہ مشق نظامِ ہاضمہ کے افعال کو متاثر کرسکتی ہیں۔ اللہ ہمیں صحت مند زندگی عطا فرمائے آمین ۔

 حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مطابق بال کیوں جلدی سفید ہوتے ہیں؟ 


حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شخصیت ایک ایسی شخصیت ہے جس سے اپنے اور غیرتمام دانشور متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتے اور جس کسی انسان نے اس شخصیت کے گفتار و کردار اور اذکار پر غور کیا وہ خیر میں ڈوب گیا یہاں تک کہ غیر مسلم ماہرین نے بھی جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے اوصاف کو دیکھا تووہ بھی دھنگ رہ گئے کیونکہ انہوں نے افکارے علی کو دنیا میں بے نظیر اور لاثانی پایا اور آج ہم حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک ایسا واقعہ ذکر کریں گے جس میں ہمارے لئے کہ ایسی فکر جو بھی ہے لیکن بد اعمالیوں کا ارتکاب کرنےوالوں کی زندگی کم ہوتی ہے تو خواتین و حضرات ایک شخص حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس حاضر ہوا اور سوال کیا کیا یا علی رضی اللہ تعالی عنہ وہ کون سے لوگ ہیں جو جلد مر جاتے ہیں اور کون سے لوگ ہیں جو دیر سے مرتے ہیں تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا ایک تو وہ شخص جو اپنی نگاہوں کو ادھر ادھر پھیرتا رہتا ہے دنیاوی خواہشات اور لذتوں کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے تو وہ اپنی موت کو اپنے پیچھے مائل کرتا ہے اور اس طرح وہ بیماریوں اور پریشانیوں میں کھِر کر مر جاتا ہے اور وہ شخص جو اپنی نگاہیں جھکاکر چلتا ہے اور اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا اور اللہ کی رضا میں راضی رہ کر تکلیفوں اور مصیبتوں میں صبر اور شکر ادا کرتا رہتا ہے تو وہ شخص اپنی حالاکت دیر تک بچا رہتا ہے ان اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ کون سے لوگ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے جلدی مر جاتے ہیں اور کون لوگ اپنے اچھے اعمال کی بدولت دیر تک زندہ رہتے ہیں ہیں اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے علمی خزانے سے ایک اور واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی خدمت میں حاضر ہوں اور پوچھنے لگا کہ اے امیر المومنین انسان کے بال کیوں سفید ہوجاتے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام زمین پر تشریف لائے اور ایک لمبے عرصے کے بعد ان کے بال سفید ہونے لگے تو انہوں نے اللہ تعالی سے عرض کی کہ اے اللہ میرے بال کیوں سفید ہو رہے ہیں اللہ تعالی نے فرمایا کہ بالوں کا سفید ہونا بڑھاپےبزرگی اور تجربات میں اضافے کا اشارہ ہے اور انسان کا بوڑھا ہو ناانسان کو نفسانی خواہشات سے دور رکھتا ہے اور اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اس شخص کے پاس زندگی کے تجربات موجود ہیں جس سے مشورہ کرکے انسان اپنے فیصلوں کو بہتر بناسکتا ہے اور اے شخص یاد رکھنا کہ جوانی کے جوش سے زیادہ اللہ بوڑھوں کے مشورے کو زیادہ پسند کرتا ہے اس لیے ہمیشہ چاہیے یہ کوئی بھی اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا مقصود ہو تو اپنے بزرگوں کے مشوروں کو اہمیت دینے ان کی رائے کا احترام کریں کیونکہ ان کے پاس زندگی کے تجربات ہوتے ہیں وہ ہمارے لیے مشعل راہ اور ان سے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل سکتا ہے اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہر موقعے پر اپنے بزرگوں کو ساتھ لے کر چلیں ۔ایسا ہی ایک واقعہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ کم ظرف آدمی کی پہچان کیا ہے حضرت علی نے فرمایا کہ کم ظرف آدمی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے کسی کے ساتھ کوئی نیکی سلوک ہو جائے تو اس کو ایک قرض خیال کرتے ہوئے ہمیشہ اس کو واپس لینے کی فکر میں رہتا ہے اور اس کے لیے کوئی بھی اُونچا ہتھکنڈا استعمال کرسکتا ہے بلکہ انسان کو چاہیے کہ جب وہ کسی کے ساتھ کوئی نیکی یا احسان کا معاملہ کرے تواُس کا بدلہ اپنے اللہ سے لینے کا گمان کرے کیونکہ اللہ انسان کا خالق و مالک ہے اور وہی سب سے بہتر بدلہ دینے والا ہے اسی طرع ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کہیں سے گزر رہے تھے اور دیکھا کہ راستے میں ایک شخص اداس بیٹھا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالی اُس شخص کے پاس گئے اور اس سے پوچھا کہ اللہ کے بندے ہیں کیوں اداس بیٹھے ہو تو اس شخص نے کہا کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ میری بچپن سے یہی خواہش ہے کہ کاش میرے پاس ایک ہزار اُونٹ ہوتے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ میرے پاس صرف یہی چاروں اُونٹ ہے اُس شخص کا اتنا ہی کہنا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اے شخص یہ بتاؤ کہ ایک ایسی چیز جو تمہارے پاس نہ ہو کیا تم وہ چیز دے سکتے ہو تو اس نے کہا کہ جو چیز میرے پاس نہ ہو میں اُسے کیسے دے سکتا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا تو خود سوچو یہ ہزار اُونٹ جن کے بارے میں تم خواہش رکھتے ہوں یا یہ اپنے وجود میں کوئی سکون یا خوشی رکھتے ہیں اگر نہیں تو وہ یہ خوشی تمہیں کیسے دیں گے بلکہ تم نے خود یہ خوشی اپنی اُس خواہش میں رکھی ہیں اور یاد رکھو جب تمھاری یہ خواہش پوری ہو جاۓ گی تم کسی اور حواہش کے پیچھے بھاگو گے۔ جاؤ اُن سے پوچھو جن کے پاس ہزار ہزار اونٹ ہیں کیا وہ خوش ہیں؟ انسان اپنی خواہش کے پیچھے تب تک بھاگتا ہے جب تک وہ پوری نہ ہو جاؤ اگر آج تمہاری ایک آنکھ خراب ہو جائے تو تمہاری یہی خوشی ہوگی کہ تمہاری ہے ٹھیک ہو جائے اور اگر تمہارے یہ دونوں کان خراب ہو جائے تو تمہاری خواہش ہوگی کہ تمہارے یہ دونوں کا ن ٹھیک ہوجائے تمہاری خوشی تمہاری خواہشات میں نہیں بلکہ تمہارے وجود میں ہیں جو وقت اور حالات کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور اے شخص انسان کا مقصد یہ نہیں کہ وہ ساری زندگی اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتے رہے ہیں بلکہ انسان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سمجھیں اور اپنے آپ کو تلاش کرے کیونکہ انسان کی خوشی اس کے وجود میں ہے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس علم کا بہت بڑا خزانہ تھا جس سے ہماری رہنمائی ہوتی ہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی رضی اللہ تعالی عنہ اس کا دروازہ ہے اس کا مطلب یہ ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے پاس جو علم ہے وہ بھی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی وسلم سے ہی سیکھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی وسلم کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے بے حد محبت تھی اور اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح بھی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کیا تھا ایک مرتبہ ایک شخص حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آیا اور کہنے لگا اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری زندگی بڑی بے سکون سی ہوگئی ہیں غصہ ہر وقت میرے اوپر حاوی رہتا ہے ایسا کیا کروں کہ میرا رویہ اچھا ہو جائے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اے شخص تم اپنی جائز ہواہشات کو پورا نہیں کرتے جس کی وجہ سے یہ غصہ اور چیڑ چڑا پن تم پر حاوی رہتا ہے تو شخص نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ میں اپنی خواہشات کو کیسے پورا کرو جو چاہتا ہوں مجھے وہ ملتا ہی نہیں تو حضرت علی نے فرمایا کہ اے شخص یاد رکھنا انسان جب اپنی کسی خواھش کو پورا کرتا ہے تو انسان کا دماغ اللہ کے کرم سے انسان کو ایک تحفہ دیتا ہے اور اس انعام کو راحت کہتے ہیں اور ایک بات یاد رکھنا جتنی خوشی انسان کو بڑی خوشی حاصل کرنے میں ملتی ہیں اتنی ہی خوشی انسان کو چھوٹی چھوٹی خوشیاں پوری کرنے سے ملتی ہے بس یہ انسان کا وھم ہوتا ہے کہ مجھے فلاں چیز مل جائے تو میں بہت خوش ہوں گا اور جب انسان کو اسکی منزل مل جاتی ہے تو چند ہی دنوں میں وہ اس کا عادی بن جاتا ہے اور پھر کسی دوسری خواہش کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے اور قیامت تک پورا نہیں ہوتا لیکن انسان کا رویہ اس وقت خراب ہوتا ہے جب انسان اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو قربان کرکے ان بڑی خوشیوں کی تلاش میں رہتا ہےجن کو وہ کبھی حاصل نہیں کرپاتا ہے یاد رکھو جو حاصل نہیں کرپائے اسے اللہ پر چھوڑ دو لیکن جو حاصل کرسکو اسے لازمی حاصل کرو اور جب تم اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں خوش ہونا شروع کر دو گے تو اللہ بڑی بڑی خوشیوں کو تمہارے قدموں میں ڈال دے گا اور بے شک وہ اپنے شکر گزار بندوں کو بے حد پسند کرتا ہے ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالی کی ہر نعمت کا شکر ادا کرنا سیکھیں کیونکہ اللہ بھی انہی لوگوں کو پسند کرتا اور نوازتا ہے جو اس کا شکر ادا کرتے ہیں اللہ ہم سب کو اپنے شکر گزار بندوں میں سے بنائے آمین
no image

گزشتہ برس کی بات ہے۔ ایک انگریزی اخبار کی ورق گردانی کے دوران ایک خبر نظروں سے گزری۔ ذہن سے صلاح و مشورے کے بعد ہاتھوں نے قلم کو زحمت دی۔ ملک میں غربت بہت ہے۔ مسائل کا انبار اس سے کہیں زیادہ۔ اس صورتحال میں جرائم کی سنگینی، قتل، غبن، اغوا، بم دھماکوں اور کرپشن تک محدود نہیں۔ یہ آپ اور مجھ جیسوں کے اندر بھی سرایت کر رہی ہے۔ ہم جس خبر کو محسوس نہ کریں، ہمارے نزدیک وہ سنگین نہیں۔ اور وہ خبر جو ہماری روح کو زخمی کردے، سب سے اہم اور سنجیدہ۔ بے حسی بھی ایک جرم ہے۔ ضلع ساہیوال میں گورنمنٹ اسکول کی ایک ہیڈ مسٹریس نے بچی کو صرف اس خطا پر بے رحمی سے زرد و کوب کیا کہ عجلت میں اس نے ہیڈ مسٹریس کا واش روم استعمال کرلیا۔ مار ایسی نہ پڑی کہ چہرے، ہاتھوں یا کمر پر چپت رسید ہوتی بلکہ 6 سالہ بچی کے نازک وجود کو خون میں لتھیڑ دیا گیا۔

حمیرا کا جی اس دن، صبح سے ہی بے چین تھا۔ موسم کا اثر تھا یا کچھ انہونی ہونے کو تھی؟ اس سے کوئی کام ڈھنگ سے انجام نہیں دیا جا رہا تھا۔ کپڑے دھو کر صحن میں رکھ آئی، ہنڈیا چولہے پر چڑھا دی۔ اس کی لاڈلی کے اسکول سے لوٹنے کا وقت ہو چلا تھا، جو گھر داخل ہونے سے قبل ہی بھوک کا شور مچا دیتی۔ کھانا وقت پر نہ ملے تو رونے لگتی۔ بڑا بیٹا اور حمیرا کا شوہر کسی بھی وقت گھر پہنچنے والے تھے۔ مگر اس پر تو گھبراہٹ طاری تھی۔ پرندے بھی اس دن ضرورت سے زیادہ چہک رہے تھے۔ ہوا ساکت اور سورج کی تپش کا حال، گویا سوا نیزے پر پہنچ گیا ہو۔

یہ چھوٹا سا گاؤں، عباس پور، چک نمبر2/10-L، اجڑے، بنجر، خاک کے شہر ہڑپّہ سے کچھ ہی فاصلے پر ضلع ساہیوال میں آباد ہے۔ حمیرا جب بیاہ کر یہاں آئی تو اگلے ہی دن ہڑپّہ کی وحشت اس پر طاری ہو نے لگی۔ دن میں کئی بار میاں سے کسی دوسرے چک میں بسنے کا کہتی مگر وہ نہ مانا، یہاں تک کہ ایک بیٹا اور بیٹی بھی دنیا میں آگئے۔ یہ چک اسے پسند آئی نہ یہاں کے لوگ جی کو بھائے تھے۔ وہ اکثر یہی سوچتی کہ نجانے اتنی خاموشی، ویرانی، ہیبت کیوں طاری رہتی تھی سب پر؟

اسے یقین ہو چلا تھا کہ اجڑے ہوئے ہڑپّہ کی ڈری سہمی ہواؤں کا آسیب اس چک اور یہاں کے باسیوں پر طاری تھا۔

ان خیالوں میں اس کی ہنڈیا جل گئی… حمیرا کو بیٹی کے شور مچانے کی فکرستانے لگی۔ باپ بیٹے تو دہی سے روٹی کھا لیتے، مگر اس کی لاڈلی ایسا کچھ نہیں کھاتی تھی۔ یوں بھی اس کی فرمائش پر چنے والی کڑھی پک رہی تھی۔ حمیرا نے گھڑی پر نظر دوڑائی اور اب تک تینوں میں سے کسی کے نہ آنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے کچے پکے حساب سے چھوٹی کو تو پندرہ منٹ پہلے پہنچ جانا چاہیے تھا۔ دل ہی دل میں باپ بیٹے کی خبر لینے کی ٹھانی، ’’آجائیں ذرا یہ باپ بیٹے، انہیں دوڑاتی ہوں اس کے اسکول! میری معصوم کلی، اتنی گرمی میں کمہلا گئی ہوگی۔‘‘ حمیرا کی پڑوس والی رضیہ، گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول میں استانی تھی۔ چھوٹی اسی کے ساتھ اسکول آتی اور جاتی تھی۔ انہی وسوسوں اور خیالوں کی مڈبھیڑ میں حمیرا نے گیلے کپڑوں کو رسیوں پر پھیلانا شروع کر دیا۔ دھوپ بہت تیز تھی۔ اس کا خیال تھا کہ گھنٹے، ڈیڑھ گھنٹے میں کپڑے سوکھ جائیں گے۔ چھوٹی کے کپڑے سب سے زیادہ میلے ہو تے تھے۔ شام کو قرآن پڑھنے جاتی تو روز ماں بیٹی اسی مخمصے میں رہتیں کہ کیا پہنا جائے؟

کچھ آوازیں دور سے آتی محسوس ہورہی تھیں۔ حمیرا کو خیال گزرا کہ وہ لوگ پہنچ گئے۔ لیکن یہ کیا، باپ بیٹے اکیلے دوڑے چلے آرہے تھے۔ چھوٹی کہاں رہ گئی؟ رضیہ بھی اکیلی چلی آرہی تھی۔ الہی خیر! میری بچی کیوں نہیں آئی؟ ماں کے دل میں بے اختیار صدا گونجی۔ اس کے دل کی رفتار بے تحاشہ بڑھ گئی۔ کانوں میں ملی جلی آوازیں پڑ رہی تھیں۔ کوئی کہہ رہا تھا، ’’چھوٹی اسکول سے غائب ہے۔‘‘

حسب معمول رضیہ چھوٹی کو اپنے پرس اور پانی کی بوتل کے ساتھ اسٹاف روم میں بٹھا کر کسی اہم کام سے ہیڈ مسٹریس کے پاس گئی۔ واپس آئی تو وہ موجود نہ تھی۔ ہرجگہ ڈھونڈا، تلاش کیا لیکن وہ نہ ملی۔ اسکول کی صفائی پر مامور خاکروب نے اسے رازداری سے بتایا کہ وہ بیت الخلاء کی صفائی کر رہا تھا۔ چھوٹی حاجت رفع کےلیے عجلت میں ہیڈ مسٹریس والے بیت الخلاء میں چلی گئی۔ ہیڈ مسٹریس نے اسے وہاں سے نکلتے ہوئے دیکھ لیا۔ پہلے توبچی کو تھپڑ مارے پھر غصے میں دھکا دیا۔ بچی سیمنٹ کی دیوار کے ساتھ زور سے ٹکرائی اور اس کے حسّاس اعضاء سے تیزی سے خون بہنا شروع ہو گیا۔ حمیرا اس سے آگے نہ سن سکی، نازوں پلی معصوم بچی کا چہرہ اور آنکھوں کے سامنے گھومتا اندھیرا۔ اس کے ڈوبتے ہو ئے دل اور نبض کا ساتھ نہ دے پایا۔ چھوٹی کے نازک وجود کا لمس، اس کی خوشبو محسوس ہورہی تھی اسے۔ جانے کتنے لمحے بے خیال، بے ہوش رہنے کے بعد حمیرا کو پہلا خیال اپنی بچی کاآیا۔ چیخنے، رونے کے سوا وہ کچھ نہیں کر پا رہی تھی؟ رضیہ اس کے پاس موجود تھی۔

حمیرا کے استفسار اور حالت کے پیش نظر اس نے بتایا کہ ہیڈ مسٹریس نے جب چھوٹی کی حالت دیکھی تو اسے لے کر اپنے کسی رشتے دار کے گھر چلی گئی تاکہ کسی طرح خون کو بہنے سے روکا جا سکے۔ لیکن اسکول کے چوکیدار اور اس خاکروب کی مدد سے چھوٹی کو وہاں سے نکال کر کسی پرائیویٹ اسپتال میں لے جایا گیا۔ حمیرا کیونکر گھر میں، روتے ہوئے ہڑپّہ کی فریادوں کو اکیلے سن سکتی تھی۔ وہ دونوں بھی اسپتال کی طرف چل پڑیں۔ دو فرلانگ دوری پر قائم اسپتال کا راستہ اس دن طویل ہو گیا۔ اس کا پورا وجود چیخ رہا تھا۔ اپنی بچی کی اذیت کو محسوس کررہا تھا۔ چھوٹی کے سوا کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ’’یااللہ! مجھے ہمت عطا کر، ہم سے کون سا ایسا گناہ سرزد ہوگیا ہے، کس کی آہ، کس کی ہائے لگی ہے ہمیں؟ میری بچی کو بچا لے، اس معصوم کی تکلیف مجھے دے دے! اسے میری زندگی، میرے حصے کی ساری خوشیاں عطا کردے۔‘‘

حمیرا کی آہ و بکا جاری تھی۔ اسی اثناء میں اسپتال آگیا۔ وہ دونوں ایمرجنسی وارڈ کی طرف دوڑ رہی تھیں۔ واقعے کی اطلاع پورے چک کو ہوچکی تھی۔ بہت سے شناسا چہرے نظر آئے، دکھائی نہیں دے رہی تھی تو صرف چھوٹی۔ حمیرا اپنی بچی کو دیوانہ وار ڈھونڈ رہی تھی، سوچ رہی تھی کہ اسے تو خراش بھی آجاتی تو رو رو کر گھر سر پر اٹھا لیتی تھی۔ اب اس کی آواز کیوں نہیں آرہی؟ اف خدایا! وہ اتنی شدید اذیت کیسے سہہ رہی ہوگی؟ ’’یہ کیا کر دیا تُو نے میرے مالک!‘‘

وارڈ کے باہراس کا میاں اور بیٹا کھڑے تھے۔ ان کی حالت بھی تسلی بخش نہ تھی۔ رو رو کر دونوں کی آنکھیں سوج چکی تھیں۔ انہیں اس حالت میں دیکھ کر حمیرا کی سانسیں رُک رہی تھیں۔ ’’میری چھوٹی ٹھیک تو ہے؟‘‘ یہ سوال وہ بار بار دوہرا رہی تھی۔ ڈاکٹر کے مطابق زخم گہرا تھا۔ ٹانکے لگائے جا رہے تھے۔ بیٹا روتے ہوئے بتارہا تھا اور حمیرا کا کلیجہ منہ کو آرہا تھا۔

پھولوں کو کون مسلتا ہے؟ انہیں شاخ سے کون توڑتا ہے؟ وہاں موجود کچھ لوگ تھانہ کچہری کی بات کر رہے تھے مگر حمیرا پر صرف اپنی بچی کو دیکھنے کا جنون سوار تھا۔ ڈاکٹر نے اسے اندر بچی کے پاس جانے کی اجازت دی تو اس کے قدم بھاری ہونے لگے۔ دکھیاری ماں سوچتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔ ‘’’اپنی معصوم بچی کا سامنا کیسے کروں گی، وہ کیا سوچے گی؟ امّاں تو روز یہ کہہ کر اسکول بھیجتی ہے کہ استاد کا درجہ والدین سے بھی زیادہ ہے، ان کی ڈانٹ ڈپٹ کا برا نہ منایا کر میری شہزادی۔ وہ تیرے بھلے اور اچھے مستقبل کے لیے یہ سب کہتے ہیں… استاد ماریں بھی تو سہہ لیا کر!‘‘

یہ جملہ صرف حمیرا کے کانوں میں نہیں، پورے چک اور بنجر ہڑپّہ میں گونج رہا تھا۔

بچی، ماں کے سامنے تھی۔ روزانہ صبح نہلا دھلا کر کنگھی کرکے، اس کی دو چوٹیاں بناکر، جب حمیرا چھوٹی کو آئینہ دکھاتی تو وہ لازماً یہ سوال کرتی: ’’امّاں تو مجھے کتنا پیار کرتی ہے؟‘‘ زرد رنگت، سوکھے، پپڑی جمے ہوئے ہونٹ۔ تکلیف، اذیت سے کانپتا ہوا جسم، سوجی ہوئی آنکھیں، ماتھے پر پڑا ہوا نیل، خون میں لتھڑا ہوا یونیفارم۔ یہ اس کی چھوٹی تھی؟ وہ آگے بھی نہیں بڑھ پا رہی تھی اور اپنے قدموں پر کھڑا رہنے کی ہمت بھی کھوتی جا رہی تھی۔ چھوٹی نے ماں کو دیکھ کر اپنے بازو وا کردیئے۔ ماں سوچ رہی تھی کیسے زخمی وجود کو خود میں سمیٹ لے، گھائل روح کے زخم بھرنے کےلیے آخر کیا کرے؟ رضیہ بھی زار و قطار رو رہی تھی، حمیرا کو سہارا دے رہی تھی۔ وہ اپنی بچی سے لپٹ گئی۔ اس کے معصوم وجود کو اپنے حصار میں لے لیا ہے۔ رو رو کر اس کی ہچکیاں بندھ چکی تھیں۔
اسکول، استاد، کتابیں، پڑھائی… سارے الفاظ دھندلا رہے تھے۔ تکلیف اور کمزوری کے باعث چھوٹی اپنی ماں کو اس شدت سے لپٹا بھی نہیں پائی جس طرح روز اسکول سے آکر ’’امّاں!‘‘ کہہ کر لپٹا کرتی تھی۔

حمیرا اپنی بچی کی اس تکلیف کو کم نہیں کر سکتی تھی۔ وہ اتنی چھوٹی، ناسمجھ تھی کہ اسے سمجھا بھی نہیں سکتی۔ بس دعا کر سکتی تھی اس کےلیے؛ اور بد دعا دے سکتی تھی اسے جس نے ان کے ہنستے کھیلتے گھرانے کو اپنی انا کی خاطر زندگی بھر کے روگ سے دوچار کر دیا تھا۔ ان بااثر اور بااختیار لوگوں نے بچی کے باپ کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا۔ ہڑپّہ پولیس نے ایف آئی آر کاٹنے اور بچی کے زخموں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ شاید یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان تھا… شاید نہیں یقیناً!

کیا انسان نام کی مخلوق ناپید ہوچکی ہے؟ تعلیم کے سوداگروں کا یہ رویہ کس تہذیب اور ثقافت کی ترجمانی کرتا ہے؟ بچہ تو بچہ ہوتا ہے، وہ بھی چھ سال کا۔ اس سے کوئی غلطی لاعلمی میں سرزد ہو جائے تو اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے؟

حمیرا ٹھیک کہتی تھی۔ ہڑپّہ کے پاس نہ رہو، مردہ شہر کے زندہ لوگ بھی اندر سے مرجا تے ہیں۔ چھوٹی اس کرب اور صدمے سے زندگی بھر نہیں نکل پائے گی۔ وہ ماں کے کہنے پر بھی اسکول نہیں جائے گی۔ ماں اسے کیسے اور کیا بتائے گی؟ کیا زندگی بھر اس سے نظر ملا پائے گی؟