Search This Blog

Blog Archive

Top News



قومی اسکواڈ کی انگلینڈ میں پہلی کورونا ٹیسٹنگ کی رپورٹس پی سی بی کو موصول ہوگئی ہیں۔



ووسٹر میں موجود 20 کھلاڑیوں اور ٹیم منیجمنٹ کے 12 اراکین کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔ فوٹو : ٹوئٹر


وورسٹر میں موجود 20 کھلاڑیوں اور ٹیم منیجمنٹ کے 12 اراکین کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں، ای سی بی میڈیکل پینل کزیر اہتمام قومی اسکواڈ کی وورسٹر میں کوویڈ 19 ٹیسٹنگ گذشتہ روز ہوئی تھی، ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آنے پر قومی کھلاڑیوں کو وورسٹر میں ٹریننگ کی اجازت مل گئی، تاخیر سے اسکواڈ کو جوائن کرنے والے اسپنر ظفر گوہر اور فزیو کلف ڈیکن کے ٹیسٹ کی رپورٹس بھی آج موصول ہوجائیں گی۔

اس سے قبل لاہور میں محمد حفیظ، وہاب ریاض، فخرزمان، محمد رضوان شاداب خان اور محمد حسنین کے ٹیسٹ بھی نیگیٹو آئے تھے، دوسری بار نتیجہ منفی آنے کے بعد اب یہ 6 کرکٹرز دورہ انگلینڈ کے لیے کلیئر ییں، ان کے سفر کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔




تاریخ کا دھارا بدلنے والی شخصیات کے حالات زندگی میں ایک قدر مشترک پائی جاتی ہے اور وہ ہے اصولوں کی خاطر کٹ جانا۔ یہی وہ ادائے دلبری ہے جس کی جلد یا بدیر پہچان امریکی جیلوں میں بند میلکم ایکس، افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف لڑنے والے نیلسن منڈیلا، سوشلسٹ چی گویرا اور پاکستان کے واحد صادق اور امین سیاستدان عمران خان کو عوام اور اقوام عالم کی نظروں میں خاص بنا دیتی ہے۔

اگرچہ یہ تمام رہنما حالات کی چکی میں یکساں طور پستے رہے ہیں، لیکن… اول الذکر تمام رہنماؤں اور عمران خان میں بڑا فرق فی البدیہہ فن تقریر کا ہے۔ جو کام بڑے بڑے لیڈر شبانہ روز محنت کے باوجود نہ کرسکے کپتان نے وہ کام محض دو تقریروں سے کر دکھایا۔ پہلی تقریر مینار پاکستان کے مقام پر کی۔ ابھی کپتان اسٹیج سے نیچے نہیں اترے تھے کہ قوم اپنے مسیحا کو پہچان گئی۔ جو جس حال میں تھا، کوئی بیٹھا تھا کھڑا، زمین پر تھا خلا میں، نیند میں یا بیداری کی حالت میں، وہیں فیصلہ کر بیٹھا کہ ’’ڈٹ کے کھڑا ہے اب کپتان، نیا بنے گا پاکستان‘‘۔

دوسرا موقع وہ تھا جب کپتان نے اقوام متحدہ میں عالمی ضمیر پر ایسی کاری ضرب لگائی کہ دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ اب ایک طرف اصول پسند کھڑے تھے جو کپتان کی چشم کشا تقریر سن کر عالمی جبر کو مسترد کرچکے تھے اور دوسری طرف رواتی ڈھیٹ ٹولہ تھا جو کسی طور بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ یعنی تقریر کرنے کے چند گھنٹوں بعد کپتان خلا میں گھور رہا تھا کہ تالیاں بجانے والے کہاں گئے؟

مسندِ اختیار سنبھالنے کے بعد خان نے ایک مرتبہ پھر اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خدا نخواستہ خودکشی کرلے گا لیکن بیرونی قرضے نہیں لے گا۔ وہ تو آئی ایم ایف، اماراتی اور سعودی شہزادے نے ضد کرکے چند ٹکے کپتان کی زنبیل میں ڈال دیے۔ خان صاحب مہمانوں کو ایئرپورٹ چھوڑنے گئے تو پیسے گاڑی کی ڈگی میں رکھ لیے کہ مناسب موقع دیکھ کر واپس کردیں گے۔ لیکن خان صاحب کی بطور ڈرائیور عمدہ کارکردگی پر مہمانوں نے اتنی تعریف کی کہ پیسے لوٹانا بھول گئے۔



وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں کوئی شبہ نہیں کہ کراچی میں اسٹاک ایکسچینج پر حملہ بھارت کی طرف سے ہوا ہے۔ 

قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بہت افواہیں تھیں کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے بجٹ سے ایک رات پہلے ٹی وی پر ایسا لگتا تھا کہ حکومت گئی تاہم پارٹی اور اتحادیوں نے جس جذبہ سے یہ بجٹ پاس کرایا ان کا شکر گزار ہوں، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی خواتین پارلیمنٹرین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

اسٹاک ایکسچینج پر حملہ ممبئی حملوں جیسا تھا

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپنے ہیروز سب انسپکٹر افتخار، خدا یار اور حسن علی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، حسن علی کی بہن بھی ان کی شہادت کا سن کر انتقال کر گئیں، ہمیں کوئی شبہ نہیں کہ یہ حملہ بھارت کی طرف سے ہوا ہے، بھارت نے عدم استحکام کا شکار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور یہ ممبئی حملوں جیسا حملہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم دہشت گردی کے4 منصوبے ناکام بنا چکے ہیں، اسلام آباد کے قریب دہشت گردی کے 2  منصوبے تھے، دہشت گرد بہت زیادہ اسلحہ بارود لے کر آئے تھے تاہم ہماری سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے ان کو ناکام بنا دیا۔

اگر مجھ سے پوچھا جاتا تو میں کبھی سخت لاک ڈاؤن نہیں کرنے دیتا

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی ٹیم نے مشکل حالات میں بہترین بجٹ پیش کیا، حکومت 5000 ارب روپے جمع کرنا تھا، معاشی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ہوا کہ پورا ملک لاک ڈاؤن کرنا پڑا، ہمیں بھی مکمل لاک ڈاؤن کا کہا گیا تھا لیکن ہم نے زیادہ سخت لاک ڈاؤن نہیں کیا، اگر مجھ سے پوچھا جاتا تو میں کبھی سخت لاک ڈاؤن نہیں کرنے دیتا، لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ اتنے بھوکے تھے کہ وہ گاڑی پر حملہ کردیتے تھے۔

ہمارے جیسے لوگوں اور سرکاری تنخواہیں لینے والوں کو تو فرق نہیں پڑتا

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سیاحتی علاقے کے لوگ روزگار سے تنگ ہیں، ہمارے جیسے لوگوں اور سرکاری تنخواہیں لینے والوں کو تو فرق نہیں پڑتا، دیہاڑی داروں کو فرق پڑتا، 12 ہزار روپے جو دیے وہ تو خرچ ہوگئے ہوں گے، ہم لوگوں کی مزید مدد کرنے کا پلان بنا رہے ہیں۔

یہ لوگ چاہے احتجاج کریں چاہے دھرنے دیں کوئی فرق نہیں پڑتا

وزیراعظم نے کہا کہ پاور سیکٹر ہمارے ملک کے لیے عذاب بنا ہوا ہے، پاور سیکٹر کے کرائسز 10 سال کے ہیں، پاور سیکٹر میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جائیں گے، ان اداروں کے اندر مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے 11 سال میں 10 چیفز کو تبدیل کیا گیا، اسٹیل ملز پی آئی اے ریلوے پاور سیکٹر نقصان میں جارہا ہے، جب سے حکومت میں آئے ہیں بند اسٹیل ملز کو 34 ارب روپے تنخواہوں کی مد میں دے چکے ہیں، ان اداروں میں مافیاز ہیں تاہم ہمیں ریفارمز کرنا ہوں گے، یہ لوگ چاہے احتجاج کریں چاہے دھرنے دیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اگر اب فیصلے نہ لیے تو پھر وقت نہیں رہے گا

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر اب فیصلے نہ لیے تو پھر وقت نہیں رہے گا، بڑی بڑی اجارہ داریاں بنی ہوئی ہیں، جگہ جگہ شوگر کارٹل کی طرح کی کارٹل بنی ہوئی ہیں، جو پیسہ بنارہا وہ ٹیکس تو دے، وہ ٹیکس عوام پر خرچ ہوتا ہے، ریاست مدینہ میں امرا سے زکوٰۃ لیکر غربا کو دی جاتی، انتیس ارب کی سبسٹسدی لیکر نو ارب ٹیکس دیتے ہیں، چینی بھی عوام کو مہنگی دیتے ہیں، ہمارا مشن ہے کہ لوگ پیسہ بنائیں مگر ٹیکس دیں، تمام مافیاز اور اجارہ داروں کو قانون کے تابع کریں گے، یہ مافیاز نہیں چل سکتے تھے جب تک حکومتیں سرپرستی نہیں کریں۔

اپوزیشن کی باتوں کا مائنڈ نہیں کرتا کیونکہ ان کی اہمیت نہیں 

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور نوازشریف کی شوگر ملیں کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے بنائی گئیں، اپوزیشن کی باتوں کا مائنڈ نہیں کرتا کیونکہ ان کا مجھے پتہ ہے، میں مائنڈ نہیں کرتا کیونکہ ان کی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں، ان سے پوچھا گیا پی ٹی آئی اور ن لیگ میں فرق کیا ہے، اس نے کہا (ن) لیگ لبرل ہے اور پی ٹی آئی مذہبی جماعتوں کے قریب ہے، یہ لبرلی کرپٹ ہیں، ان  سیاسی جماعتوں نے مغرب جاکر ایک ہی بات کہی مجھے بچالو ورنہ دینی لوگ پاکستان پر قبضہ کرلیں گے۔

کبھی نہیں کہا کہ میری کرسی بڑی مضبوط ہے 

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے نہیں کہا کہ میری حکومت نہیں جانے والی، میں نے کبھی نہیں کہا کہ میری کرسی بڑی مضبوط ہے، کرسی صرف اللہ دیتا ہے، کبھی آپ کو کرسی چھوڑتے ہوئے گھبرانا نہیں چاہیے، اپنے پارلیمنٹیرینز سے کہتا ہوں کرسی آنی جانی چیز ہے، کبھی بھی کرسی چھوڑنے سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ اپنے نظریہ پر قائم رہنا چاہیے، نظریے پر قائم رہے تو کوئی نہیں گراسکتا۔

یہ جمہوریت پسند نہیں انہوں نے جمہوریت کو بدنام کیا

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن مجھے مائنس ون کی کوششیں کر رہی ہے، مائنس ون ہوبھی گیا تو باقی بھی انہیں کوئی نہیں چھوڑے گا، یہ صاحب یہاں کہہ رہے تھے کہ میاں صاحب فکر نہ کریں لوگ جلدی بھول جائیں گے، یہ جمہوریت پسند نہیں انہوں نے جمہوریت کو بدنام کیا، ان کو کیا پتہ تھا کہ میں سپریم کورٹ جاؤں گا، سپریم کورٹ نے انہیں کرپٹ قرار دے دیا، یہ کیسا وزیر خارجہ ہے کہ دبئی کی کمپنی سے 15،20 لاکھ تنخواہ لے رہا ہو، وہ تنخواہ نہیں کچھ اور لے رہے تھے۔

میں ان کو کبھی بھی این آر او نہیں دوں گا

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے پہلی تقریر نہ کرنے دی، پہلے دن سے کہہ رہے ہیں حکومت فیل ہوگئی، مسلم لیگ (ن) کا تو کوئی دین ایمان نہیں، یہ کبھی جہادیوں سے پیسے لیتے ہیں تو کبھی لبرل بنتے ہیں، ان کا شور اس لئے ہے کہ انہیں پتہ ہے ہمیں ثبوت مل رہے ہیں۔ 6،7 سات لوگ این آر او لینا چاہ رہے ہیں، میں ان کو کبھی بھی این آر او نہیں دوں گا، جنرل مشرف کی حکومت اتنی بری نہیں تھی اس نے این آر او دے کر برا کیا۔

۔ کمیٹی بحران کے دوران اوگرا، وزارت پٹرولیم اور نجی تیل کمپنیوں کے کردار کی تحقیقات کرے گی. فوٹو، فائل

وزیراعظم نے پیٹرول کی قلت اور ذخیرہ اندوزی کی تحقیقات کے لیے معاون خصوصی برائے توانائی شہزاد سید قاسم کی سربراہی میں چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کمیٹی ملک میں تیل کی فراہمی میں بد انتظامی پر 10 جولائی تک تحقیقات مکمل کرے گی۔ کمیٹی بحران کے دوران اوگرا، وزارت پٹرولیم اور نجی تیل کمپنیوں کے کردار کی تحقیقات کرے گی اور اس بات کا تعین بھی کرے گی کہ بحران سے کس کس کو فائدہ پہنچنا۔

کمیٹی آئل کمپنیوں اور پیٹرول پمپوں کی جانب سے ذخیرہ اندوزی کی بھی تحقیقات کرے گی اور  پیٹرولیم شعبے میں مالکان کے گٹھ جوڑ کے امکانات کا بھی جائزہ لے گی۔

یہ خبر بھی پڑھیے: پٹرول قیمتوں کا فارمولا تبدیل کرنا بادی النظر میں بدنیتی ہے، لاہور ہائیکورٹ

کمیٹی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے پیٹرول کے درآمد اور دستیابی پر پڑنے والے اثر کی بھی رپورٹ پیش کرے گی ۔گزشتہ سال کی نسبت رواں سال پیٹرول کی دستیابی کی تفصیلات بھی سامنے لائے گی۔ دوبارہ اس طرح کے بحران سے بچنے کے لیے لائحہ عمل بھی مرتب کرے گی

تحقیقاتی کمیٹی میں ڈی جی آئل، سابق جی ایم پی ایس او اور پیٹرولیم انسٹیٹوٹ آف پاکستان کے سربراہ بھی شامل ہیں۔


کورونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 9 ہزار 337 ہوگئی۔

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 2 لاکھ 9 ہزار 337 ہوگئی۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2846 افراد کورونا وائرس کا شکار ہوگئے جس کے نتیجے میں مریضوں کی تعداد دو لاکھ 9 ہزار 337 ہوگئی جبکہ اب تک 98 ہزار 503 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔

ایک روز میں اس وائرس نے مزید 118 افراد کی جان لے لی جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 4304 تک پہنچ گئی۔

کورونا متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ سندھ میں ہے جہاں اب تک 81 ہزار 985 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ پنجاب میں 75 ہزار 501، خیبر پختونخوا میں 26 ہزار 115، بلوچستان میں 10 ہزار 426، اسلام آباد میں 12 ہزار 775، گلگت بلتستان میں ایک ہزار 470 اور آزاد کشمیر میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد ایک ہزار 65 ہوگئی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 20 ہزار 930 ٹیسٹ کیے گئے اور ملک بھر کے مختلف اسپتالوں میں کورونا کے پانچ ہزار 299 مریض زیر علاج ہیں۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔




امریکا کتنا طاقتور ہے ؟ امریکا کی طاقت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ دنیا کا ایک ملک بھی ایسا نہیں جس کی زمین پر یہ جس کی سرحد پر امریکی فوجی اڈہ یا اس کا بہری بیڑا نہ کھڑا ہوا ہو۔ امریکا کے دنیا بھر میں اپنی زمین سے باہر 800 فوجی اڈے ہیں جبکہ امریکہ کے بعد دنیا کی تین بڑی طاقتوں روس فرانس اور برطانیہ ان تینوں کے کل ملا کر 30 فوجی اڈے ہیں اس سے امریکہ کے لمبے اور مضبوط بازوؤں کا پتہ چلتا ہے ۔امریکی فوجی بجٹ 611 ارب ڈالر کا ہے ۔یہ دفاعی بجٹ امریکہ کے بعد بڑی طاقتوں چین روس فرانس برطانیہ سعودی عرب انڈیا جرنی ان تمام کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ آج کل کی دنیا میں ایئرکرافٹ کیریئر کو بہت بڑی جنگی طاقت مانا جاتا ہے۔ اکیلے امریکہ کے پاس 11 ایئر کرافٹ کیریئرزہیں۔ جبکہ امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی فوجی طاقتوں روس ،چین ،فرانس، برطانیہ ان سب کے پاس دو سے زیادہ ایئر کرافٹ کیرئیر نہیں ہیں ۔ امریکہ کا سیاسی اثر و رسوخ بھی دنیا میں بہت زیادہ ہے۔ وہ اس طرح کہ اقوام متحدہ کے سب سے طاقتور باڈی سلامتی کونسل میں امریکہ کے پاس ویٹو پاور ہے۔ دنیا میں تین بڑے ادارے اقوام متحدہ ،نیٹو فورسز اور ورلڈ بینک امریکی امداد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے اس لیے یہ تینوں ادارے امریکہ کے اثر میں ہوتے ہیں۔ ان تینوں باتوں کے علاوہ امریکہ دنیا کے بڑے حصے میں اپنی ضرورت کے مطابق فوجی اور معاشی امداد دیتا ہے جس کی وجہ سے یہ ممالک اور یہ جغرافیے اس کے سیاسی اثر میں رہتے ہیں ۔علمی اور تحقیقی لحاظ سے بھی دیکھیں تو امریکہ پوری دنیا میں سب سے آگے ہیں۔ دنیا کی ٹاپ 20 یونیورسٹیز میں سے سترہ امریکہ میں ہیں ۔ "سیلیکون ویلی" ہیں وہ جگہ جہاں ٹیکنالوجی جنم لیتی ہے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں دنیا کے بہترین دماغ علم حاصل کرنے تجربہ حاصل کرنے یا پیسے کی تلاش میں آتے ہیں یا دنیا کے بہترین دماغوں کو یہاں اچھے پیکجز پر لایا جاتا ہے۔ فیسبوک ،گوگل ،ایپل اور مائیکروسافٹ جیسے بڑے بڑے ادارے سلیکون ویلی میں موجود ہیں۔ معاشی لحاظ سے دیکھیں تو امریکی معیشت اٹھارہ اعشاریہ ستاون ٹریلین ڈالر کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے ۔امریکہ کے بعد چھین کا نمبر ہے لیکن چینی معیشت کا حجم امریکہ سے سات ٹریلین ڈالر کم ہے ۔معادنی لحاظ سے بھی امریکہ اسطرح مالا مال ہے کہ دنیا کا سب سے زیادہ اور بہترین کوئلہ امریکی زمین میں پایا جاتا ہے ۔ اور تیل کے دسویں نمبر پر سب سے زیادہ ذخائر بھی امریکی زمین میں موجود ہیں۔ امریکا دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی بناتا ہے اور مہنگی ترین پروڈکٹس تیار کرتا ہے۔ اس لیے امریکہ کا ٹریڈپروفائل فرسٹ ورلڈ کا ہے جبکہ اس کے مدمقابل جو ممالک ہیں روس اور چین ان کا ٹریڈ پروفائل تھررڈ ورلڈ کا ہے۔ امریکہ کی طاقت اس کی کامیاب اور سب سے قدیم جمہوریت ہے جس میں تقریبا دور صدیوں سے کوئی تبدیلی نہیں آیا یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ادارے خود مختار اور مضبوط ہوتے گئے۔ مختصر یہ کہ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ لیکن اپنے سُپر پاور سٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لئے امریکہ کو مسلسل اپنی ایکسپورٹس بڑھانا ہوتی ہیں۔ ایکسپورٹس مسلسل بڑھانے کے لئے امریکہ کو اپنی مصنوعات میں مسلسل جدد لانا ہوتی ہے۔ یہ جدد لانے کے لئے اُسے دنیا کے بہترین دماغ چاہیے۔ اس سارے تسلسل میں سے اگر ایک گھڑی بھی کم ہوجائے تو امریکہ کا سپر پاور سٹیٹس خطرے میں پڑ سکتا ہے