Articles by "صحت"
Showing posts with label صحت. Show all posts

 حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مطابق بال کیوں جلدی سفید ہوتے ہیں؟ 


حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شخصیت ایک ایسی شخصیت ہے جس سے اپنے اور غیرتمام دانشور متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتے اور جس کسی انسان نے اس شخصیت کے گفتار و کردار اور اذکار پر غور کیا وہ خیر میں ڈوب گیا یہاں تک کہ غیر مسلم ماہرین نے بھی جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے اوصاف کو دیکھا تووہ بھی دھنگ رہ گئے کیونکہ انہوں نے افکارے علی کو دنیا میں بے نظیر اور لاثانی پایا اور آج ہم حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک ایسا واقعہ ذکر کریں گے جس میں ہمارے لئے کہ ایسی فکر جو بھی ہے لیکن بد اعمالیوں کا ارتکاب کرنےوالوں کی زندگی کم ہوتی ہے تو خواتین و حضرات ایک شخص حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس حاضر ہوا اور سوال کیا کیا یا علی رضی اللہ تعالی عنہ وہ کون سے لوگ ہیں جو جلد مر جاتے ہیں اور کون سے لوگ ہیں جو دیر سے مرتے ہیں تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا ایک تو وہ شخص جو اپنی نگاہوں کو ادھر ادھر پھیرتا رہتا ہے دنیاوی خواہشات اور لذتوں کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے تو وہ اپنی موت کو اپنے پیچھے مائل کرتا ہے اور اس طرح وہ بیماریوں اور پریشانیوں میں کھِر کر مر جاتا ہے اور وہ شخص جو اپنی نگاہیں جھکاکر چلتا ہے اور اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا اور اللہ کی رضا میں راضی رہ کر تکلیفوں اور مصیبتوں میں صبر اور شکر ادا کرتا رہتا ہے تو وہ شخص اپنی حالاکت دیر تک بچا رہتا ہے ان اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ کون سے لوگ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے جلدی مر جاتے ہیں اور کون لوگ اپنے اچھے اعمال کی بدولت دیر تک زندہ رہتے ہیں ہیں اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے علمی خزانے سے ایک اور واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی خدمت میں حاضر ہوں اور پوچھنے لگا کہ اے امیر المومنین انسان کے بال کیوں سفید ہوجاتے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام زمین پر تشریف لائے اور ایک لمبے عرصے کے بعد ان کے بال سفید ہونے لگے تو انہوں نے اللہ تعالی سے عرض کی کہ اے اللہ میرے بال کیوں سفید ہو رہے ہیں اللہ تعالی نے فرمایا کہ بالوں کا سفید ہونا بڑھاپےبزرگی اور تجربات میں اضافے کا اشارہ ہے اور انسان کا بوڑھا ہو ناانسان کو نفسانی خواہشات سے دور رکھتا ہے اور اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اس شخص کے پاس زندگی کے تجربات موجود ہیں جس سے مشورہ کرکے انسان اپنے فیصلوں کو بہتر بناسکتا ہے اور اے شخص یاد رکھنا کہ جوانی کے جوش سے زیادہ اللہ بوڑھوں کے مشورے کو زیادہ پسند کرتا ہے اس لیے ہمیشہ چاہیے یہ کوئی بھی اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا مقصود ہو تو اپنے بزرگوں کے مشوروں کو اہمیت دینے ان کی رائے کا احترام کریں کیونکہ ان کے پاس زندگی کے تجربات ہوتے ہیں وہ ہمارے لیے مشعل راہ اور ان سے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل سکتا ہے اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہر موقعے پر اپنے بزرگوں کو ساتھ لے کر چلیں ۔ایسا ہی ایک واقعہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ کم ظرف آدمی کی پہچان کیا ہے حضرت علی نے فرمایا کہ کم ظرف آدمی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے کسی کے ساتھ کوئی نیکی سلوک ہو جائے تو اس کو ایک قرض خیال کرتے ہوئے ہمیشہ اس کو واپس لینے کی فکر میں رہتا ہے اور اس کے لیے کوئی بھی اُونچا ہتھکنڈا استعمال کرسکتا ہے بلکہ انسان کو چاہیے کہ جب وہ کسی کے ساتھ کوئی نیکی یا احسان کا معاملہ کرے تواُس کا بدلہ اپنے اللہ سے لینے کا گمان کرے کیونکہ اللہ انسان کا خالق و مالک ہے اور وہی سب سے بہتر بدلہ دینے والا ہے اسی طرع ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کہیں سے گزر رہے تھے اور دیکھا کہ راستے میں ایک شخص اداس بیٹھا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالی اُس شخص کے پاس گئے اور اس سے پوچھا کہ اللہ کے بندے ہیں کیوں اداس بیٹھے ہو تو اس شخص نے کہا کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ میری بچپن سے یہی خواہش ہے کہ کاش میرے پاس ایک ہزار اُونٹ ہوتے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ میرے پاس صرف یہی چاروں اُونٹ ہے اُس شخص کا اتنا ہی کہنا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اے شخص یہ بتاؤ کہ ایک ایسی چیز جو تمہارے پاس نہ ہو کیا تم وہ چیز دے سکتے ہو تو اس نے کہا کہ جو چیز میرے پاس نہ ہو میں اُسے کیسے دے سکتا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا تو خود سوچو یہ ہزار اُونٹ جن کے بارے میں تم خواہش رکھتے ہوں یا یہ اپنے وجود میں کوئی سکون یا خوشی رکھتے ہیں اگر نہیں تو وہ یہ خوشی تمہیں کیسے دیں گے بلکہ تم نے خود یہ خوشی اپنی اُس خواہش میں رکھی ہیں اور یاد رکھو جب تمھاری یہ خواہش پوری ہو جاۓ گی تم کسی اور حواہش کے پیچھے بھاگو گے۔ جاؤ اُن سے پوچھو جن کے پاس ہزار ہزار اونٹ ہیں کیا وہ خوش ہیں؟ انسان اپنی خواہش کے پیچھے تب تک بھاگتا ہے جب تک وہ پوری نہ ہو جاؤ اگر آج تمہاری ایک آنکھ خراب ہو جائے تو تمہاری یہی خوشی ہوگی کہ تمہاری ہے ٹھیک ہو جائے اور اگر تمہارے یہ دونوں کان خراب ہو جائے تو تمہاری خواہش ہوگی کہ تمہارے یہ دونوں کا ن ٹھیک ہوجائے تمہاری خوشی تمہاری خواہشات میں نہیں بلکہ تمہارے وجود میں ہیں جو وقت اور حالات کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور اے شخص انسان کا مقصد یہ نہیں کہ وہ ساری زندگی اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتے رہے ہیں بلکہ انسان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سمجھیں اور اپنے آپ کو تلاش کرے کیونکہ انسان کی خوشی اس کے وجود میں ہے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس علم کا بہت بڑا خزانہ تھا جس سے ہماری رہنمائی ہوتی ہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی رضی اللہ تعالی عنہ اس کا دروازہ ہے اس کا مطلب یہ ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے پاس جو علم ہے وہ بھی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی وسلم سے ہی سیکھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی وسلم کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے بے حد محبت تھی اور اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح بھی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کیا تھا ایک مرتبہ ایک شخص حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آیا اور کہنے لگا اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری زندگی بڑی بے سکون سی ہوگئی ہیں غصہ ہر وقت میرے اوپر حاوی رہتا ہے ایسا کیا کروں کہ میرا رویہ اچھا ہو جائے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اے شخص تم اپنی جائز ہواہشات کو پورا نہیں کرتے جس کی وجہ سے یہ غصہ اور چیڑ چڑا پن تم پر حاوی رہتا ہے تو شخص نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ میں اپنی خواہشات کو کیسے پورا کرو جو چاہتا ہوں مجھے وہ ملتا ہی نہیں تو حضرت علی نے فرمایا کہ اے شخص یاد رکھنا انسان جب اپنی کسی خواھش کو پورا کرتا ہے تو انسان کا دماغ اللہ کے کرم سے انسان کو ایک تحفہ دیتا ہے اور اس انعام کو راحت کہتے ہیں اور ایک بات یاد رکھنا جتنی خوشی انسان کو بڑی خوشی حاصل کرنے میں ملتی ہیں اتنی ہی خوشی انسان کو چھوٹی چھوٹی خوشیاں پوری کرنے سے ملتی ہے بس یہ انسان کا وھم ہوتا ہے کہ مجھے فلاں چیز مل جائے تو میں بہت خوش ہوں گا اور جب انسان کو اسکی منزل مل جاتی ہے تو چند ہی دنوں میں وہ اس کا عادی بن جاتا ہے اور پھر کسی دوسری خواہش کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے اور قیامت تک پورا نہیں ہوتا لیکن انسان کا رویہ اس وقت خراب ہوتا ہے جب انسان اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو قربان کرکے ان بڑی خوشیوں کی تلاش میں رہتا ہےجن کو وہ کبھی حاصل نہیں کرپاتا ہے یاد رکھو جو حاصل نہیں کرپائے اسے اللہ پر چھوڑ دو لیکن جو حاصل کرسکو اسے لازمی حاصل کرو اور جب تم اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں خوش ہونا شروع کر دو گے تو اللہ بڑی بڑی خوشیوں کو تمہارے قدموں میں ڈال دے گا اور بے شک وہ اپنے شکر گزار بندوں کو بے حد پسند کرتا ہے ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالی کی ہر نعمت کا شکر ادا کرنا سیکھیں کیونکہ اللہ بھی انہی لوگوں کو پسند کرتا اور نوازتا ہے جو اس کا شکر ادا کرتے ہیں اللہ ہم سب کو اپنے شکر گزار بندوں میں سے بنائے آمین

امریکی قومی مرکز برائے بایو ٹیکنالوجی کے مطابق ننھے بچوں کے دانتوں میں موجود خلیاتِ ساق (اسٹیم سیلز) ایک جانب تو ماحولیاتی نقصان سے بڑی حد تک دور ہوتے ہیں تو دوسری جانب وہ دیگرجسمانی اعضا کی تیاری میں بہت مدد دے سکتے ہیں۔ پھر ان کی بدولت کینسر کے علاج کے لیے بدن کے دوسرے حصوں سے گودے (بون میرو) حاصل کرنے کی ضرورت بھی کم ہوگی۔

اگرچہ یہ تحقیق ابتدائی درجے میں ہیں لیکن اس کی مدد سے امراضِ قلب، دماغی بیماریوں اور کینسر کے علاج میں بہت مدد ملے گی۔ دانتوں کے اندر خاص قسم کے خلیاتِ ساق پائے جاتے ہیں جنہیں ’ہیومن ڈیسی ڈیئس پلپ اسٹیم سیلز‘ ( ایچ ڈی پی ایس سی) کہا جاتا ہے۔
اس کیفیت میں ان کے خلیات ہر جسمانی عضو میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس درجے پر یہ جگر، ہڈیوں کی دوبارہ افزائش اور آنکھوں کے متاثرہ ٹشو بھی بناسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دس سال تک کے بچوں کے ٹوٹے ہوئے دانت بہت کارآمد رہتے ہیں۔
چین میں اس کا دلچسپ تجربہ کیا گیا جس میں بچوں کے دانتوں کے خلیات سے ایسے بالغ افراد میں دانت اگانے کا فیصلہ کیا گیا جن کے دانت گر چکے تھے۔ 30 مریضوں پر آزمائش کی گئی تو ان میں دانت اُگ آئے لیکن دانت آدھے اور جزوی طور پربنے تھے۔
یونیورسٹی آف پینسلوانیہ کے ماہرین نے بچوں کے دانتوں سے خلیات لے کر جب دانت کھو دینے والے افراد میں لگا کر انہیں مصنوعی دانت نصب کیا گیا تو مریضوں نے دانتوں کے اندر حساسیت محسوس ہوئی جس سے ظاہر ہے کہ یہ عمل منتقل شدہ دانتوں میں بھی حساسیت پیدا کرسکتا ہے۔
یہ بات بھی زیر غور رہے کہ بچوں کے دودھ کے دانت سے حاصل شدہ خلیات کو دیگر کئی اقسام کے امراض میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔