Articles by "کالمز"
Showing posts with label کالمز. Show all posts



معزز دوستوں السلام علیکم علیکم دوستو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی احادیث مبارکہ میں قیامت کی دس نشانیوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک علامت زلزلوں کا پہ درپے آنابھی ہوگا ایک وقت ایسا تھا کہ اگر کہیں سے اطلاع ملتی کہ فلاں جگہ زلزلہ آیا ہے تو وہاں کے لوگ فورا توبہ استغفار کرنا شروع کر دیتے تھے لیکن آج کل ہر وقت کہیں نہ کہیں زلزلے نمودار ہو رہے ہیں اور ان میں جانی و مالی خسارہ الگ ہوتا ہے اور حال یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی اس بات کا علم کے زلزلے اتنی شدت کے ساتھ کیوں آتےہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ زمین کو ایک بہت بڑی چھپکلی نے اپنی پشت پر اٹھایا ہوا ہے۔ تو کسی کا خیال ہے کہ زمین کسی گائے کے سینگوں پر قائم ہے۔ اور جب یہ گائے اپنے سینگ ہلاتے ہیں تو زلزلے آتے ہیں۔ جب کہ مذہبی عقیدے کے لوگ یہ کہتے تھے کہ اللہ اپنے نافرمان بندوں کو ان زلزلوں کی وجہ سے ڈراتا ہے جبکہ ارسطو اور افلاطون کی نظریات ملتے جلتے تھے۔ جن کے مطابق زمین کی تہوں میں موجود ہوا جب گرم ہوکر زمین کی پرتوں کو توڑ کر باہر آنے کی کوشش کرتی ہے ۔تو زلزلے آتے ہیں لیکن دوستو سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ علم تحقیق کے دروازے بھی کھلتے چلے گئے اور اس طرح ہر نئے قدرتی سانحے کے بعد اس کے اسباب کے بارے میں جاننے کی جستجو نے پرانےنظریات کی نفی کردی لہذا اب ٹیکنالوجی کا یہ حال ہے کہ سمندری طوفان کی شدت اور ان کی زمین سے ٹکرانے کی مُدد کا تائین کر کے پہلے سے ہی حفاظتی بچاؤ کی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔ مگر زلزلے کی آمد نہایت خاموش ہوتی ہے اسکا پتا اس کی پھیلانے والی تباہ کاریوں کے بعد ہی چلتا ہے۔ ویسے تو ایسے آلات ایجاد ہو چکے ہیں جو زلزلہ گزرنے کے بعد ان کی شدت ان کے مرکز اور آفٹر شاکس کے بارے میں بتا دیتے ہیں اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین کی بیرونی سطح کے اندر مختلف گہرائیوں میں زمینی پلیٹیں ہوتی ہیں جنہیں ٹیکنو پلیٹز کہتے ہیں اور اس کے نیچے ایک پیگلا ہوا معدہ ہوتا ہے جسے میگمہ کہا جاتا ہے۔ میگمہ کی حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے زمین کی اندرونی سطح میں کرنٹ پیدا ہوتا ہے۔ جس سے ان پلیٹوں میں حرکت پیدا ہوتی ہیں اور وہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ٹوٹنے کے بعد پلیٹوں کا کچھ حصہ میگمہ میں دھنس جاتا ہے اور کچھ اوپر کو ابھر جاتا ہے ۔جس سے زمین پر بسنے والی مخلوق زمینی سطح پر حرکت محسوس کرتی ہیں اور دوستوں گزشتہ سال پیش آنے والے زلزلوں کی فہرست اگر نکال کر دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ لاہور میں آنے والا اس سال کا پہلا زلزلہ 22 اپریل کو آیا جس کے جھٹکے نہ صرف شدید ترین تھے بلکہ اس کی شدت 3.2 تھی جبکہ دوسرا زلزلہ 1 ستمبر کو رونما ہوا اور اس کی شدت 4.3 اور تیسرا زلزلہ 23 ستمبر کو لاہور اور ساہیوال سمیت دیگر شہروں میں آیا جس کی شدت 4.1 تھی اور اس کے جھٹکے بھی شدید محسوس کئے گئے اور اب جرمنی سے پی ایچ ڈی کرنے والے ماہر خلائی سانسس اور پنجاب یونیورسٹی شعبہ سپیس کے چیئرمین ڈاکٹر عامر محمود صاحب نے پیشنگوئی کی ہے کہ ہندوکش سے زلزلہ نکلے گا جو لاہور آ کر اس کو دو حصوں میں تقسیم کردے گا اور لاہور کا ایک حصہ لاہور طرسٹ کے نام سے بن جائے گا بعد میں یہی زلزلہ ملک کے باقی حصوں پھیلتا ہوا تباہی و بربادی پھیلائے گا لیکن اس کا کوئی ٹائم پیریڈ نہیں دیا گیا پھر اللہ بہتر جانتا ہے کہ ایسا ہوگا یا نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے کیا ہم اللہ سے سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہے یا ہماری بد اعمالیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ عرش والا بار بار اس زمین کو ہلاکر ہمیں جنچھوڑ رہا ہے کیا 2005 والے زلزلے کی تباہی سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا اللہ فرماتا ہے اگر تم میرے دین سے منحرف ہو جاؤ تو بہت جلد میں تمہیں ہٹا کر اپنے ایسے بندے لے کر آؤں گا جو مجھ سے محبت کرتے ہو اور جن سے محبت کروں گا اور وہ جہاد کریں گے میری راہ میں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے اللہ بڑی کشاکش رکھنے والا اور خبردار ہے المائدہ 2 دوستوں ہمارے پاس سدھرنے کا وقت ہے اللہ ہمیں اپنے دین پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے عذاب سے ہمیں بچائے آمین


ترکی کتناطاقتور ہے ؟ اسلامی دنیا میں اگر کوئی ایک ملک امریکی بالادستی کو چیلنج کرتا ہے تو وہ ترکی ہے اس کی ایک مثال حال ہی میں دیکھنے میں آئی جب امریکہ نے اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا عمل شروع کیا تو ترکی نے اسرائیل سے ڈپلومیٹک ریلیشنز توڑ دیے ۔ترکی کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہیں لیکن پھر بھی اس کا شمار دنیا کی بڑی طاقتوں میں ہوتا ہے آخر ترک قوم کی طاقت کیا ہے اور ترکی کتنا طاقتور ہے ہم دیکھتے ہیں اِس ویڈیو میں ۔ ویسے تو ترکی کا رقبہ پاکستان سے کم ہے اس رقبے میں موجود پانی اور آبادی بھی پاکستان سے تھوڑی ہے لیکن اس کے باوجود ترکی کی سب سے بڑی قوت اس کا جغرافیاہی ہے وہ یوں کہ یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ترکی دونوں براعظموں کا دروازہ بن چکا ہے اس جیوگرافی کی اتنی اہمیت ہے کہ امریکہ اور روس دونوں چاہتے ہیں کہ ترکی ان کے کیمپ میں رہے اور ترکی اپنی اس اہمیت کو بہت اچھے طریقے سے استعمال کرتا ہے لیکن یہی جغرافیہ ترکی کی کمزوری بھی ہےکیونکہ ہر سال ایشیا سے یورپ جانے کے خواہش مند لاکھوں لوگوں کا ایک سیلاب ترکی میں آجاتا ہے جو ترقی کے لیے بڑا معاشی چیلنج کھڑا کر دیتا ہے یورپ سمجھتا ہے کہ ترکی ایسے تارکین وطن کو روکے گا جبکہ ترکی کے لیے انہیں روکنا اپنے ملک میں ٹھہرانا یا واپس بھیجنا تینوں کام ہی درد سر بن جاتے ہیں۔ 2015 میں ایلان کردی کی ترک ساحل سے ملنے والی لاش نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا تھا ترکی یورپی یونین کا رکن بننا چاہتا ہے لیکن اس کا جغرافیہ ہیں اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ یورپی یونین کے شہری بغیر ویزے کے سارے یورپ میں گھوم سکتے ہیں اگر ترکی یورپی یونین کا رکن بنتا ہے تو ہر سال ایشیا سے آنے والے لاکھوں تارکین وطن بھی باآسانی یورپ میں چلے جائیں گے اس لیے ترکی کی سر توڑ کوشش کے باوجود یورپی یونین ا سے اپنا رکن بنانے سے انکاری ہے۔ معاشی لحاظ سے دیکھیں تو ترکی 863 ڈالر جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کے سترویں بڑی معاشی طاقت ہے ترک معیشت میں سیاحت ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ہر سال دنیا بھر سے ستر لاکھ سیاح یہاں آتے ہیں اس کے علاوہ ترقی میں گاڑیوں الیکٹرونکس اور ٹیکسٹائل کے صنعت نے بھی بہت ترقی کی ہے فوجی میدان میں ترکی کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے ترکی دنیا کی آٹھویں بڑی فوجی طاقت ہے جبکہ پاکستان تیرویں بھارت چوتھی اور چین تیسری بڑی فوجی طاقت ہیں۔ نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے کوئی ملک ترکی کے فوجی مفادات کو براہ راست نقصان نہیں پہنچا سکتا ایسا کرنے کی صورت میں اسے مغربی فوجی اتحاد نیٹو سےبھی جنگ کرنا پڑے گی نیٹو اتحاد میں امریکہ کے بعد سب سے بڑی فوج ترکی کی ہی ہیں جس کی تعداد چار لاکھ دس ہزار ہے ترکی کے پاس ایک ہزار اٹھارہ لڑاکا طیارےہیں ۔ ترکی امریکہ کے تعاون سے ایف سکسٹین مینفیکچر بھی کرتا ہے جبکہ نیٹو کا رکن ہونے کے ناطے اسے ریڈار کی نظروں سے بچ کر اڑنے والے امریکی ایف 35 طیارے بھی ملیں گے ۔لیکن اس کے لیے امریکہ ترکی تعلقات میں آئی خرابی کو بھی ٹھیک کرنا ہوگا ۔امریکی دباؤ کے باوجود ترکی نیٹو کا واحد رکن ملک ہے ۔جو روس سے جدید میزائل ڈیفنس سسٹم خرید رہاہے ۔ترکی کو اپنے جغرافیے اور اسلامی ممالک میں اہمیت کی وجہ سے وسیع سیاسی قوت بھی حاصل ہیں۔ جب امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تو ترکی کے صدر طیب اردگان نے اسلامی ممالک کا اجلاس بلاکر بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دے دیا ۔ترکی کے اس اقدام نے مسلمانوں کے دل جیت لیے تھے۔ تاہم جدید فوج اور معاشی طاقت کے باوجود ترکی تیزی سے مسائل کا شکار بھی ہو رہا ہے جن میں دو مسائل بہت بڑے ہیں ۔پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ ترکی کی کرد اقلیت نے آزادی کی تحریک شروع کر رکھی ہے۔ ان کردوں نے اب ترکی کی سرحد کے ساتھ شام اور عراق میں بھی اپنے فوجی اڈے قائم کر لیے ہیں ۔ترکی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شام کے شمالی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے ۔اور عراق میں بھی اس کی فوج داخل ہوچکی ہیں ۔اسی فوجی مداخلت کی وجہ سے ترکی کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ترکی کا دوسرا بڑا مسئلہ یورپی یونین اور امریکا سے خراب تعلقات ہیں۔یورپی یونین کو کردوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں پر ترکی سے شکایت ہے۔ لیکن امریکہ سے ترکی کے اختلافات کی وجہ سے زیادہ سنگین نوعیت کی ہے۔ 2016 میں جب ترک عوام نے فوجی بغاوت کو ناکام بنایا ۔تو اس سازش کا الزام ترکی نے فتح اللہ گولن پر لگایا تھا ۔فتح اللہ گولن اُس وقت امریکہ میں بیٹھے تھے۔ ترکی کے مطالبے کے باوجود امریکہ نے فتح اللہ غولن کو ترقی کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔یہ الزام بھی سامنے آیا کہ ترکی میں امریکی فضائی اڈا بھی فوجی بغاوت میں استعمال ہوا ہے۔ ان واقعات کے بعد ترکی نے امریکی کیمپ سے ہٹ کر روس سے تعلقات بڑھانا شروع کر دیئے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ترکی تیزی سے روس اور ایران کے قریب آ رہا ہے پاکستان اور قطر سے بھی اس کے بہترین تعلقات ہیں تاہم شام ایران اسرائیل سعودی عرب اور امریکہ سے اس کے تعلقات کافی حد تک کشیدہ ہوچکے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو ترکی اپنی بہترین جغرافیائی پوزیشن معاشی ترقی نیٹو کی ر کنیت اور فوجی طاقت کی وجہ سے دنیا کی بڑی طاقت ہے ۔تاہم کردوں کی بغاوت امریکہ اور یورپ سے مسلسل کشیدہ تعلقات اور ہمسایہ ممالک کے بگڑتی صورتحال نے ترکی کے لئے بڑے چیلنچ پیدا کر دیے ہیں ۔


اسلام علیکم علیکم دوستو 
یہ دنیا عجائبات سے بھری پڑی ہے قدرتی مناظر ہوں یا ان میں چھپے حقائق سب کو دیکھ اور سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن میں ہمیں جا بجا قدرت پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے انسان چاہے جتنی بھی ترقی کر لے لیکن قدرت کے ان شاہکاروں کے آگے اس کی طاقت کم پڑ جاتی ہے اور یہی وجہ انسا ن کو ایسے عجائبات کی کھوج میں لگائے رکھتے ہیں جس سے وہ نا واقف ہے ۔ دوستوں آج کا ہمارا پر ٹاپک بھی آپ کو انہی عجائبات سے گزارتے ہوئے دنیا کے اس پر اسرار مقام پر لے جائے گا جسے ایمازون فارسٹ یا ایمزونیاں اور ایمازون جنگل کہتے ہیں جنوبی امریکہ میں ایمزون تاس پر محیط ایک برساتی جنگل ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا جنگل ہے جو دریائے ایمزون اور اس کے معاون دریاؤں کےگرد پھیلا ہوا ہے اس کا رقبہ 25 لاکھ مربع میل یعنی تقریبا پورے آسٹریلیا کے برابر ہیں اور اس کے دریا کا نظارہ 208 میل کی دوری سے بھی دیکھا جاسکتا ہے خواتین و حضرات اس جنگل کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں 400 سے 500 قبائل کا بسیرا ہے جن میں سے پچاس ایسے قبائل ہیں جن کا باہر کی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ وہ انسانی دنیا سے ناواقف ہیں۔ یہ لوگ تیر کمان سے مچھلی کا شکار کرتے ہیں اور بندروں کو اپنی غذا بناتے ہیں اس کے علاوہ یہاں کی زرخیز آب و ہوا میں عجیب و غریب قسم کے جانور پائے جاتے ہیں کہا یہ جاتا ہے کہ ایمازون کی مکڑیاں اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ پرندے پکڑ لیتی ہیں اس کے علاوہ ان جنگلات میں سب سے بڑی تبدیلیاں اور اس کے علاوہ دنیا کے تمام پرندوں کی آدھی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ اس جنگل میں 1300 پرندوں 40000 پودوں اور 3000 مچھلیوں کی اقسام کے علاوہ جہاں چارسو تین قسم کے میملز اور 5.2 ملین حشرات الارض پائے جاتے ہیں ہیں اس کے علاوہ ایمزون کو حیرت انگیز اور خوفناک مخلوق کا گھر بھی کہا جاتا ہے جس میں الیکٹرک خونی جانور زہریلے مینڈک اور زہریلے سانپ یعنی اینا کونڈا وغیرہ شامل ہیں۔ دوستو اینا کونڈا سانپ جنوبی امریکہ میں پایا جانے والا ایک طرح سے اس دنیا کا سب سے بڑا سانپ مانا جاتا ہے عام طور پر اس کی لمبائی 5 سے 6 میٹرہوتی ہیں لیکن کچھ ایناکوڈا تو دس میٹر کی لمبائی تک پہنچ جاتے ہیں اور اب تک جو سب سے لمبا اینا کونڈا کولمبیا میں پکڑا گیا تھا جس کی لمبائی43،11 میٹر تھی اور یہ کئی گنا زیادہ موتا تھا اس کے علاوہ انسان کو نگلنے والے اینا کونڈا کی کہانیوں پر یقین کرنا تو مشکل ہے لیکن سانپوں کا جائزہ لینے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ بڑے سائز کے اینا کوڈا کم از کم ایک بچے کو نگل سکتے ہیں لیکن ان کی تعداد آج بھی نمک کے برابر ہے ۔ جب امریکہ کے ایک سابق صدر نے اعلان کیا تھا کہ جو کوئی انہیں دس میٹر لمبا اینا کونڈا لاکر دے گا تو وہ ا سے پانچ ہزار ڈالر انعام دیں گے لیکن کسی نے دس میٹر لمبا سانپ پیش ہی نہیں کیا ایسا اس لیے ہوا کیونکہ اتنی لمبائی کے اینا کونڈا بہت کم ہوتے ہیں اور مشکل سے ملتے ہیں خواتین و حضرات یہ سانپ تقریباً ساٹھ ملین برس قبل کولمبیا کے رین فارس میں پایا جاتا تھا محقیقین کے مطابق یہ سانپ اتنا چوڑا تھا کہ ایک عام فرد کے شخص کے کولوں تک پہنچ سکتا تھا اور اس کا وزن ایک اندازے کے مطابق ایک ٹن سے زائد تھا۔ واضح رہے کہ سبزایناکوڈا جس کو دنیا کا وزنی ترین سانپ کہا جاتا ہے اس کا وزن ڈھائی سو کلو گرام ہے جب کہ پیتھن جس کو طویل ترین سانپ کہا جاتا ہے اس کی لمبائی 32فٹ ہے اور اس کے بعد اگر ہارر مُنکی کا ذکر کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر موجود جانوروں میں اگر کوئی سب سے زیادہ چیخنے چلانے اور شور مچانے کے لیے مشہور ہے وہ جنوبی امریکہ کا بندر ہے ۔ ناظرین گرامی سرخ اور سیاہ رنگ کے ان بندروں کو ان کی خصوصیت کی بنا پر ہارر مونکی یعنی چیخنے چلانے والا بندر کہہ کر پکارا جاتا ہے جنوبی امریکا کے جنگلوں میں پائے جانے والے یہ بندر عام طور پر گروپ کی شکل میں رہتے ہیں ہر گروپ میں دس سے پندرہ بندر شامل ہوتے ہیں اور ہر گروپ کا اپنا ایک مخصوص علاقہ ہوتا ہے اور اگر کسی دوسرے گروپ بندر ان کے علاقے میں گھس جائے تو یہ چیخ چیخ کر اسے اپنے علاقے سے نکال دیتے ہیں ان کے چیخنے چلانے کی آوازیں اس قدر شدید ہوتی ہیں کہ پانچ کلو میٹر تک بآسانی سمجھی جاسکتی ہیں ۔ اس کے بعد تیندوا کا نمبر آتا ہے۔جو ایک بڑا طاقتور کالے دھبوں والا گوشت خور شیر نما جانور ہے جسے جیگوار بھی کہا جاتا ہے دراصل چیتے سے مشابہت رکھنے والا یہ جانور بلی کی نسل فیلی ڈی سے تعلق رکھتا ہے اس کا شمار دنیا کی چار بڑی بلیو میں سے ہوتا ہے یہ وزن میں چیتے سے بھاری ہوتا ہے اور اس کا سر چیتے سے بڑا ہوتا ہے ہے دوستو اس کے علاوہ بھی جنگل میں ایسی مافوق الفطرت مخلوقات پائی جاتی ہیں جن کا تصور انسانی دماغ سے باہر ہیں یہ جنگل اپنے آپ میں ایک مثال ہے اور اس کی سب سے بڑی اور منفرد بات جو زمین پر اس کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے وہ یہ کہ ہمیں زندہ رکھنے کے لیے دنیا کو بیس فیصد آکسیجن اسی جنگل سے حاصل ہو رہی ہے اور شاید اسی وجہ سے اسے لنگز آف ارتھ کا نام دیا جاتا ہے اور کہاں جاتا ہے اس جنگل میں درختوں پر کھناؤ اتنا ہے کہ بارش کا پانی بھی زمین پر گرنے میں دس منٹ لگا دیتا ہے۔


 وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو ملک کی جمہوری تاریخ میں ایک سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔تاریخ نے اعتراف کیا ہے کہ قائد جمہوریت کو بے جرم ہی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ تاہم یہاں ان کی زندگی کے آخری چند گھنٹوں کے حوالے سے
کچھ حیران کن معلومات دی جا رہی ہیں۔ملکی تاریخ کے معروف ترین صحافی ادیب جاودانی نےلکھا ہےکہ جب اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے جیل سپرنٹنڈنٹ یار محمد کو حکم جاری کر دیا جائے گا بھٹو کو دوبجے پھا نسی دے دی جائے تو یار محمد نے اپنے ماتحتو ں کاظم بلوچ اور مجید قریشی کو حکم دیا کہ کال کوٹھڑی میں بند بھٹو کو پیغام پہنچا دو کہ دو بجے ان کو پھانسی دے دی جائے گی۔ یہ بھی ہدایت کی گئی کہ اگر وہ کوئی وصیت لکھنا چاہتے ہوں تو انھیں کاغذ اور قلم فراہم کر دیا جائے۔ اس پر مجید قریشی ان کے پاس آیا اور بتایا کہ مجھے افسوس ہے کہ آپ کی زندگی کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔جس پر بھٹو نے غیر یقینی انداز میں مجید قریشی کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ کیا نصرت کی ضیا الحقسے ملاقات نہیں ہوئی؟ نفی میں جواب ملنے پر انھوں نے دوبارہ پوچھا کہ کیا واقعی وہ ایسا کرنے والے ہیں؟ مجید قریشی نے بتایا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ میں وصیت کے لیئےکاغذ اور قلم آپ کو دے دوں۔مجید قریشی وہاں سے چلا گیا اور بھٹو کافی دیر تک ان پرکچھ لکھتے رہے اورپھر سارے کاغذ پھاڑ ڈالے۔رات ایک بجے
مجید قریشی دوبارہ کال کوٹھڑی میں آیا ۔ اس نے دیکھا کہ ذوالفقار بھٹو بالکل بے حس و حرکت پڑے ۔وہ گھبرا گیا اور بھاگ کر جیل حکام کو بلا لایا۔سب نے آکر بھٹو کو دیکھا ان کی نبض دیکھی تومعلوم ہوا کہ وہ سو رہے ہیں۔انھیںجگایا گیا اور بتایا گیا کہ ان کے آخری غسل کےلئے پانی تیار ہے۔انھوںنے جوا ب دیا کہ وہ پاک ہیں۔ اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ وہ پھانسی کے تختے تک جا سکیں گے یا سٹریچر منگوایا جائے ۔جس پر انھوں نے تعاون سے صاف انکار کر دیااور انھیں سٹریچر پر لے جایا گیا۔ انھوںنے اداسی سے جیل کی کال کوٹھڑی پر نگاہ ڈالی۔ وہاں سے انھیں تختے تک لے جایا گیا۔تارا مسیح نے ان کے چہرے پر ماسک چڑھایا۔ اور ان کے منہ سے نکلنے والے آخری الفاظ تھے ۔” فنش” جس کے بعد تاریخ کے عظیم لیڈر کا باب تمام ہو گیا۔ فنش” جس کے بعد تاریخ کے عظیم لیڈر
کا باب تمام ہو گیا۔
شخص جسکی عمر تو 44سال مگر سر کے بال جھڑنا شروع ہوچکے ‘بالوں کی رنگت بھوری ہورہی ‘گہری پلکیں ‘ ہونٹ حتیٰ کہ آنکھوں کی پتلیاں تک تھکاوٹ زدہ اورآنکھوں میں عجیب سی اداسی جبکہ مسکراہٹ میں شرمیلا پن ‘ذوالفقار بھٹو کے ساتھ صرف 6دن گزار کر ہی میں اس نتیجے پر پہنچ گئی کہ وہ تضادات کا مجموعہ ‘جیسے سانگھڑ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے غصے اور جو ش سے دونوں بازو لہراتے وہ ایسے شخص جنہیں تالیوں اور طاقت سے پیار ‘ ہالہ کے لان میں لوگوں کو گھنٹوں انتظار کروا کر’ خوبصورت قالینوں پر شہزادوں کی طرح چلتے پھرتے ‘ انگلی کے اشارے سے لوگوں کو اپنی طرف بلاتے اور بکرے کا صدقہ دیتےوہ ایسے انسان جن کا تعلق طبقہ اشرافیہ سے’ ملٹری ہیلی کاپٹر میںچواین لائی کی دی ٹوپی پہنے میرے سامنے وہ مارکسٹ بھٹو ‘جوپاکستان کو غربت اور بھوک سے آزاد کرانے کے خواہشمند مگر اپنی کامیابی جنہیں ہر شے سے عزیز اور پرانے ایرانی قالینوں ‘ائیر کنڈیشنوں اور عالمی رہنماوں کے ساتھ کھینچی تصویروں سے بھرے راولپنڈی اور کراچی کے گھروںمیں میری ملاقات ایسے بھٹو سے ہوئی جو اندرا گاندھی ‘مجیب الرحمان اور یحییٰ خان سمیت اپنے سیاسی دشمنوں پر حملے کر رہے ‘ جو خوبصورت باتیں کرنے اور کتابیں پڑھنے
کے شوقین ۔ایک دن بھٹو صاحب بولے ” شیخ مجیب پیدائشی جھوٹا ‘جھوٹ اسکی فطرت میں ‘ وہ بیمار ذہن کا جنونی ‘ مجھ پر یہ جھوٹا الزام لگادیا کہ بنگالیوں کی قتل وغارت یاوحشیانہ تشدد میں نے کروایا’ یہ چھوڑیں اس نے تو ایک بار سمندری طوفان میں مرنے والوں کا الزام مجھ پر لگا دیا ‘جیسے سمندری طوفان میں نے بھیجا ‘ پھر وہ یہ سفید جھوٹ بھی بول چکا کہ جب گرفتار ہوا تو اس نے مقدمے کو ا س قابل ہی نہ سمجھا کہ دفاع کرے اور اسے جیل کے سیل میں رکھا گیاسچ یہ کہ بروہی سمیت 4وکلا ء نے اس کا کیس لڑا اور اسے تمام سہولتوں سے مزین ایپارٹمنٹ میں رکھاگیا ‘ ہاں میں مانتا ہوں کہ بنگالیوں کو قتل کیا گیا ‘ان پر تشدد ہوااور سب کچھ احمقانہ اور وحشیانہ انداز میں ہوا ‘اگر میں یہ کرتا تو اسے زیادہ سمجھداری ‘تھوڑے وحشیانہ پن اور زیادہ سائنسی انداز میں کرتا ‘ مجھے اچھی طرح یاد کہ میں ڈھاکا کے ہوٹل میں سویا ہوا تھاکہ اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے آنکھ کھلی ‘میں نے اپنے دوستوں کے کمروں سے بھاگنے کی آوازیں سنیں ‘ میں اُٹھ کر کھڑکی کی طرف گیا ‘پردہ ہٹایا’سامنے دیکھا اور روپڑا ‘میرے منہ سے بس اتنا نکلا My country is finished۔ جب میرے حکم پر مجیب کو رہا کر کے میرے پاس راولپنڈی لایاجانے لگا تو یہ سوچ کر اسے شاید مارنے کیلئے لے جایاجارہا ‘وہ خوفزدہ ہو کررونے لگا ‘ خیراسے راولپنڈی کے ایک بنگلے میں پہنچاکر مجھے بتایا گیا ‘ میں ریڈیو ‘ٹیلی ویژن ‘ اور کپڑے لے کر اسکے پاس گیا



 حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کےمطابق رات کو نیند کیوں ٹھیک سے نہیں آتی


دوستوں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک شخص آتا ہے اور عرض کرتاہے اے علی رضی اللہ تعالی عنہ مجھے رات کو ٹھیک سے نیند
 نہیں آتی رات کو سو نہیں پاتا اور جب صبح اٹھتا ہوں تو پورے جسم میں درد رہتا ہے اور وہ درد بڑھتا رہتا ہے ۔جب وہ اپنا درد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بیان کر چکا تو انہوں نے اس شخص سے فرمایا کہ اے شخص اگر تم رات کو پانی پیتے ہو تو پانی پینا بند کردو کیونکہ ایسا کرنا صحت کے لیے انتہائی نامناسب ہے اور رات کو پانی پینے سے جسم میں ایسا درد شروع ہوجاتا ہے۔ اگر اللہ پاک اسے شفا دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ورنہ اس کا علاج ناممکن ہے ۔
دوستو پانی جسم کے لیے ایک بہت اہم چیز ہے ۔جب ہم مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتے تو ہمارے جسم سے پانی خوشک ہو جاتا ہے اور اکثر رات کے وقت میں پانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور اکثر لوگ رات کو نیند سے اٹھ کر پانی پیتے ہیں ۔لیکن اب جدید میڈیکل سائنس نے بھی رات کے وقت پانی پینے سے منع کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ بستر پر جانے سے قبل پانی کا استعمال نیند کو متاثر کرتا ہے اور اس عادت کے نتیجے میں رات کو بیت الخلا کے لئے بار بار اٹھنا پڑتا ہے اور جب انسان گرم بستر سے ایک دم واش روم جاتا ہے تو جسم ٹھنڈا پڑجاتا ہے ۔جو صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اور دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق گردوں کے ساتھ ہیں آپ سب جانتے ہی ہونگے کہ رات کو گردے اپنے کام میں بہت آہستہ ہوجاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد صبح اٹھنے پر چہرے اور ہاتھوں پر سوجن کا شکار ہوتے ہیں ہیں۔ اس لیے رات کو سونے سے قبل پانی پینا ایسے افراد کے لیے مسئلہ پڑھا سکتا ہے اور تیسری بڑی وجہ اگر آپ سونے سے قبل پانی پیتے ہیں تو یہ آپ کی نیند میں مداخلت کا سبب بنتا ہے ۔وزن کم کرنے کے لیے پانی کی طرح نیند بھی ایک اہم چیز ہے اور میڈیکل سائنس بھی یہی کہتی ہے کہ چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند ہماری زندگی میں ایک تبدیلی لا سکتی ہیں ۔سائنس کے مطابق وہ لوگ جو کم سوتے ہیں اور وہ لوگ جو زیادہ نیند لیتے ہیں ۔ان کے وزن بڑھنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
 خواتین و حضرات اسی طرح کھڑے ہو کر پانی پینا اخلاقیات کے خلاف سمجھا جاتا ہے اور اس حوالے سے اب ماہرین بھی بہت سے مشورے دے رہے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق کھڑے ہو کر پانی پینے سے نہ صرف ہماری سانس میں کھچاؤ پیدا ہوتا ہے بلکہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے آپ کے پینے کی رفتار تیز ہو جاتی ہیں ۔جس کی وجہ سے جوڑوں کو نقصان پہنچتا ہے ہے ماہرین کے مطابق جس طریقے سے ہم آہستہ آہستہ کھانا کھاتے ہیں۔ اسی طرح پانی بھی آرام سے بیٹھ کر اور آہستہ آہستہ پینا چاہیے جلدی جلدی پانی پینے سے جسم میں آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے ۔جس سے دل اور پھیپھڑوں کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اس لیے ماہرین ہمیں اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے بیٹھ کر سکون سے پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں ۔جب ہم کھڑے ہوکر پانی پیتے ہیں تو یہ معدے کی دیوار سے ٹکراتاہے اور لہر کی شکل میں نیچے جاتا ہے یہ لہر معدے کی دیوار اردگرد موجود اجزاء اور غذائی نالی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہیں ہیں طویل مدت تک یہ مشق نظامِ ہاضمہ کے افعال کو متاثر کرسکتی ہیں۔ اللہ ہمیں صحت مند زندگی عطا فرمائے آمین ۔

 حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مطابق بال کیوں جلدی سفید ہوتے ہیں؟ 


حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شخصیت ایک ایسی شخصیت ہے جس سے اپنے اور غیرتمام دانشور متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتے اور جس کسی انسان نے اس شخصیت کے گفتار و کردار اور اذکار پر غور کیا وہ خیر میں ڈوب گیا یہاں تک کہ غیر مسلم ماہرین نے بھی جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے اوصاف کو دیکھا تووہ بھی دھنگ رہ گئے کیونکہ انہوں نے افکارے علی کو دنیا میں بے نظیر اور لاثانی پایا اور آج ہم حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک ایسا واقعہ ذکر کریں گے جس میں ہمارے لئے کہ ایسی فکر جو بھی ہے لیکن بد اعمالیوں کا ارتکاب کرنےوالوں کی زندگی کم ہوتی ہے تو خواتین و حضرات ایک شخص حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس حاضر ہوا اور سوال کیا کیا یا علی رضی اللہ تعالی عنہ وہ کون سے لوگ ہیں جو جلد مر جاتے ہیں اور کون سے لوگ ہیں جو دیر سے مرتے ہیں تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا ایک تو وہ شخص جو اپنی نگاہوں کو ادھر ادھر پھیرتا رہتا ہے دنیاوی خواہشات اور لذتوں کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے تو وہ اپنی موت کو اپنے پیچھے مائل کرتا ہے اور اس طرح وہ بیماریوں اور پریشانیوں میں کھِر کر مر جاتا ہے اور وہ شخص جو اپنی نگاہیں جھکاکر چلتا ہے اور اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا اور اللہ کی رضا میں راضی رہ کر تکلیفوں اور مصیبتوں میں صبر اور شکر ادا کرتا رہتا ہے تو وہ شخص اپنی حالاکت دیر تک بچا رہتا ہے ان اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ کون سے لوگ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے جلدی مر جاتے ہیں اور کون لوگ اپنے اچھے اعمال کی بدولت دیر تک زندہ رہتے ہیں ہیں اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے علمی خزانے سے ایک اور واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی خدمت میں حاضر ہوں اور پوچھنے لگا کہ اے امیر المومنین انسان کے بال کیوں سفید ہوجاتے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام زمین پر تشریف لائے اور ایک لمبے عرصے کے بعد ان کے بال سفید ہونے لگے تو انہوں نے اللہ تعالی سے عرض کی کہ اے اللہ میرے بال کیوں سفید ہو رہے ہیں اللہ تعالی نے فرمایا کہ بالوں کا سفید ہونا بڑھاپےبزرگی اور تجربات میں اضافے کا اشارہ ہے اور انسان کا بوڑھا ہو ناانسان کو نفسانی خواہشات سے دور رکھتا ہے اور اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اس شخص کے پاس زندگی کے تجربات موجود ہیں جس سے مشورہ کرکے انسان اپنے فیصلوں کو بہتر بناسکتا ہے اور اے شخص یاد رکھنا کہ جوانی کے جوش سے زیادہ اللہ بوڑھوں کے مشورے کو زیادہ پسند کرتا ہے اس لیے ہمیشہ چاہیے یہ کوئی بھی اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا مقصود ہو تو اپنے بزرگوں کے مشوروں کو اہمیت دینے ان کی رائے کا احترام کریں کیونکہ ان کے پاس زندگی کے تجربات ہوتے ہیں وہ ہمارے لیے مشعل راہ اور ان سے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل سکتا ہے اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہر موقعے پر اپنے بزرگوں کو ساتھ لے کر چلیں ۔ایسا ہی ایک واقعہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ کم ظرف آدمی کی پہچان کیا ہے حضرت علی نے فرمایا کہ کم ظرف آدمی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے کسی کے ساتھ کوئی نیکی سلوک ہو جائے تو اس کو ایک قرض خیال کرتے ہوئے ہمیشہ اس کو واپس لینے کی فکر میں رہتا ہے اور اس کے لیے کوئی بھی اُونچا ہتھکنڈا استعمال کرسکتا ہے بلکہ انسان کو چاہیے کہ جب وہ کسی کے ساتھ کوئی نیکی یا احسان کا معاملہ کرے تواُس کا بدلہ اپنے اللہ سے لینے کا گمان کرے کیونکہ اللہ انسان کا خالق و مالک ہے اور وہی سب سے بہتر بدلہ دینے والا ہے اسی طرع ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کہیں سے گزر رہے تھے اور دیکھا کہ راستے میں ایک شخص اداس بیٹھا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالی اُس شخص کے پاس گئے اور اس سے پوچھا کہ اللہ کے بندے ہیں کیوں اداس بیٹھے ہو تو اس شخص نے کہا کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ میری بچپن سے یہی خواہش ہے کہ کاش میرے پاس ایک ہزار اُونٹ ہوتے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ میرے پاس صرف یہی چاروں اُونٹ ہے اُس شخص کا اتنا ہی کہنا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اے شخص یہ بتاؤ کہ ایک ایسی چیز جو تمہارے پاس نہ ہو کیا تم وہ چیز دے سکتے ہو تو اس نے کہا کہ جو چیز میرے پاس نہ ہو میں اُسے کیسے دے سکتا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا تو خود سوچو یہ ہزار اُونٹ جن کے بارے میں تم خواہش رکھتے ہوں یا یہ اپنے وجود میں کوئی سکون یا خوشی رکھتے ہیں اگر نہیں تو وہ یہ خوشی تمہیں کیسے دیں گے بلکہ تم نے خود یہ خوشی اپنی اُس خواہش میں رکھی ہیں اور یاد رکھو جب تمھاری یہ خواہش پوری ہو جاۓ گی تم کسی اور حواہش کے پیچھے بھاگو گے۔ جاؤ اُن سے پوچھو جن کے پاس ہزار ہزار اونٹ ہیں کیا وہ خوش ہیں؟ انسان اپنی خواہش کے پیچھے تب تک بھاگتا ہے جب تک وہ پوری نہ ہو جاؤ اگر آج تمہاری ایک آنکھ خراب ہو جائے تو تمہاری یہی خوشی ہوگی کہ تمہاری ہے ٹھیک ہو جائے اور اگر تمہارے یہ دونوں کان خراب ہو جائے تو تمہاری خواہش ہوگی کہ تمہارے یہ دونوں کا ن ٹھیک ہوجائے تمہاری خوشی تمہاری خواہشات میں نہیں بلکہ تمہارے وجود میں ہیں جو وقت اور حالات کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور اے شخص انسان کا مقصد یہ نہیں کہ وہ ساری زندگی اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتے رہے ہیں بلکہ انسان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو سمجھیں اور اپنے آپ کو تلاش کرے کیونکہ انسان کی خوشی اس کے وجود میں ہے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس علم کا بہت بڑا خزانہ تھا جس سے ہماری رہنمائی ہوتی ہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی رضی اللہ تعالی عنہ اس کا دروازہ ہے اس کا مطلب یہ ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے پاس جو علم ہے وہ بھی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی وسلم سے ہی سیکھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی وسلم کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے بے حد محبت تھی اور اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح بھی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کیا تھا ایک مرتبہ ایک شخص حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آیا اور کہنے لگا اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری زندگی بڑی بے سکون سی ہوگئی ہیں غصہ ہر وقت میرے اوپر حاوی رہتا ہے ایسا کیا کروں کہ میرا رویہ اچھا ہو جائے تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اے شخص تم اپنی جائز ہواہشات کو پورا نہیں کرتے جس کی وجہ سے یہ غصہ اور چیڑ چڑا پن تم پر حاوی رہتا ہے تو شخص نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ میں اپنی خواہشات کو کیسے پورا کرو جو چاہتا ہوں مجھے وہ ملتا ہی نہیں تو حضرت علی نے فرمایا کہ اے شخص یاد رکھنا انسان جب اپنی کسی خواھش کو پورا کرتا ہے تو انسان کا دماغ اللہ کے کرم سے انسان کو ایک تحفہ دیتا ہے اور اس انعام کو راحت کہتے ہیں اور ایک بات یاد رکھنا جتنی خوشی انسان کو بڑی خوشی حاصل کرنے میں ملتی ہیں اتنی ہی خوشی انسان کو چھوٹی چھوٹی خوشیاں پوری کرنے سے ملتی ہے بس یہ انسان کا وھم ہوتا ہے کہ مجھے فلاں چیز مل جائے تو میں بہت خوش ہوں گا اور جب انسان کو اسکی منزل مل جاتی ہے تو چند ہی دنوں میں وہ اس کا عادی بن جاتا ہے اور پھر کسی دوسری خواہش کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے اور قیامت تک پورا نہیں ہوتا لیکن انسان کا رویہ اس وقت خراب ہوتا ہے جب انسان اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو قربان کرکے ان بڑی خوشیوں کی تلاش میں رہتا ہےجن کو وہ کبھی حاصل نہیں کرپاتا ہے یاد رکھو جو حاصل نہیں کرپائے اسے اللہ پر چھوڑ دو لیکن جو حاصل کرسکو اسے لازمی حاصل کرو اور جب تم اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں خوش ہونا شروع کر دو گے تو اللہ بڑی بڑی خوشیوں کو تمہارے قدموں میں ڈال دے گا اور بے شک وہ اپنے شکر گزار بندوں کو بے حد پسند کرتا ہے ہمیں چاہیے کہ اللہ تعالی کی ہر نعمت کا شکر ادا کرنا سیکھیں کیونکہ اللہ بھی انہی لوگوں کو پسند کرتا اور نوازتا ہے جو اس کا شکر ادا کرتے ہیں اللہ ہم سب کو اپنے شکر گزار بندوں میں سے بنائے آمین

سسٹم ہر کمپلین کو متعلقہ محکمہ تک پہنچا دیتا ہے اور وہاں سے یہ متعلقہ افسر تک… مگر وہ افسر اس کمپلین پر اپنی مرضی کے مطابق رائے دے کر بنا کوئی کارروائی کیے نمٹا دیتا ہے اور فیڈ بیک نیگٹیو دینے کے باوجود بھی کوئی دوبارہ اس مسئلے پر بات نہیں کرتا۔ اس صورت حال نے اس پلیٹ فارم کو ناکارہ بنا کر رکھ دیا ہے۔

کچھ مثالیں پیش ہیں:
ہمارے اردگرد موجود سگریٹ نوش حضرات ہمارے لیے سخت کوفت کا باعث بنتے ہیں۔ میں نے ایک بار کمپلین کی کہ کم از کم سرکاری اداروں کی حدود میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد کردی جائے۔
جواب آیا یہ معاملہ وزارت صحت سے متعلقہ نہیں ہے۔ یعنی وزارت صحت کی ذمے داری صرف سگریٹ کے پیکٹ پر پیغام لکھنے تک محدود ہے۔
فیصل آباد میں سرگودھا روڈ پر سیوریج کے کھلے گٹروں کی شکایت پر یہ جواب دے کر کمپلین کلوز کردی گئی کہ یہ واسا کی حدود میں ہی نہیں آتے۔ یعنی کسی کو اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ ان کھلے گٹروں میں کوئی راہگیر، بچہ، بوڑھا یا بائیک والا گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
شیخوپورہ ریلوے اسٹیشن پر کافی عرصے سے کچھ ڈبے گل سڑ رہے ہیں، سوچا قومی ادارے کے اثاثے گل سڑ رہے ہیں۔ کوشش کرتا ہوں شاید کسی کو خیال آجائے۔ تصاویر بنا کر سٹیزن پورٹل میں ڈالیں اور لکھا کہ یہ ڈبے کئی سال سے یہاں کھڑے سڑ رہے ہیں، یا تو انہیں مرمت کروا کر استعمال میں لائیں اور اگر یہ اب قابل مرمت نہیں ہیں تو ان کا سامان بیچ کر ریلوے کی آمدنی میں کچھ اضافہ کرلیں۔