Articles by "کھیل"
Showing posts with label کھیل. Show all posts


قومی اسکواڈ کی انگلینڈ میں پہلی کورونا ٹیسٹنگ کی رپورٹس پی سی بی کو موصول ہوگئی ہیں۔



ووسٹر میں موجود 20 کھلاڑیوں اور ٹیم منیجمنٹ کے 12 اراکین کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔ فوٹو : ٹوئٹر


وورسٹر میں موجود 20 کھلاڑیوں اور ٹیم منیجمنٹ کے 12 اراکین کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں، ای سی بی میڈیکل پینل کزیر اہتمام قومی اسکواڈ کی وورسٹر میں کوویڈ 19 ٹیسٹنگ گذشتہ روز ہوئی تھی، ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آنے پر قومی کھلاڑیوں کو وورسٹر میں ٹریننگ کی اجازت مل گئی، تاخیر سے اسکواڈ کو جوائن کرنے والے اسپنر ظفر گوہر اور فزیو کلف ڈیکن کے ٹیسٹ کی رپورٹس بھی آج موصول ہوجائیں گی۔

اس سے قبل لاہور میں محمد حفیظ، وہاب ریاض، فخرزمان، محمد رضوان شاداب خان اور محمد حسنین کے ٹیسٹ بھی نیگیٹو آئے تھے، دوسری بار نتیجہ منفی آنے کے بعد اب یہ 6 کرکٹرز دورہ انگلینڈ کے لیے کلیئر ییں، ان کے سفر کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

شعیب اختر نے کہا کو جب معین خان کو کہہ کہ آپ اگر اپنے ملک پاکستان کہ ساتھ مخلص ہوتے تو آج تاریخ کچھ اور کہتی اور آپ لی آج 400 سے زیادہ وکٹیں ہوتی۔۔
جس کے جواب پر شعیب اختر نے کہا کہ معین اختر صاحب اگر آپ مخلص ہوتے تو جب راشد لطیف آیا تھا 
تو آپ کیپرنگ چھوڑ دیتے اور 
ویسے بھی میری کل ویکٹیں 400 سے زیادہ ہیں
اور اچھے پلیئر عمران خان جیسی قیادت میں بنتے ہیں آپ جیسوں کی قیادت میں نہیں۔۔



ویڈیو ملاخطہ فرمائیں۔



ورلڈ کپ کرکٹ کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اعلان اگرچہ 14 اپریل کو ہونے والے فٹنس ٹیسٹ کے بعد ہو گا تاہم سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور عام لوگوں کی جانب سے اپنی پسند کے ورلڈ کپ سکواڈ چننے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان متحدہ عرب امارات میں کھیلی جانے والی حالیہ ون ڈے سیریز کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی اور ہیڈ کوچ نے چند کھلاڑیوں کو آرام اور چند کھلاڑیوں کو آزمانے کے نام پر استعمال کیا۔

کوچ مکی آرتھر اب بھی بضد ہیں کہ کپتان سرفراز احمد سمیت چھ کرکٹرز کو آرام دینے کا فیصلہ بالکل درست تھا۔

وہ آسٹریلیا سے شکست کھانے والی ٹیم کی جانب سے بننے والی پانچ سنچریوں کے علاوہ نئے فاسٹ بولر محمد حسنین کو ایک بڑی دریافت سمجھتے ہوئے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس تجرباتی سیریز کے نتائج سے کپتان سرفراز احمد پر غیرمعمولی دباؤ نہیں بڑھ گیا کہ انھیں انگلینڈ کے خلاف سب کچھ صفر سے شروع کر کے ایک بکھری ہوئی ٹیم کو دوبارہ سے اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہوگا اور ایسا نہ ہو کہ اس کوشش میں انگلینڈ کے خلاف سیریز بھی آسٹریلیا کے خلاف سیریز کا ایکشن ری پلے ثابت ہو۔

اس کی ایک بڑی مثال ہم جنوبی افریقہ کے دورے میں کھیلی گئی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں دیکھ چکے ہیں جس میں سرفراز احمد موجود نہیں تھے اور ایک نئے کپتان کے ساتھ میدان میں اترنے والی پاکستانی ٹیم مسلسل 11 ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتنے کے بعد پہلی بار شکست سے دوچار ہوئی تھی۔

یہاں یہ سوال سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف جن کھلاڑیوں کو آرام دیا گیا تھا کیا وہ ورلڈ کپ کے لیے خودبخود منتخب سمجھے جائیں گے؟ ان کھلاڑیوں میں کپتان سرفراز احمد، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان، بابر اعظم اور فخر زمان شامل ہیں۔


بظاہر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے لیکن شاداب خان اور شاہین شاہ آفریدی کے بارے میں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ پی ایس ایل میں مکمل طور پر فٹ نظر نہیں آئے تھے۔ اب وہ کتنے فٹ ہیں اس کا اندازہ فٹنس ٹیسٹ ہی نہیں بلکہ انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں بھی ہو جائے گا۔

جہاں تک آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا تعلق ہے تو شعیب ملک، جنید خان، محمد عامر، محمد عباس، یاسر شاہ اور فہیم اشرف ایسے کھلاڑی ہیں جن کا سلیکشن آٹو میٹک نہیں کہا جا سکتا ہے۔

فہیم اشرف کو دوسرے میچ کے بعد ہی سکواڈ سے دستبردار کرا کے وطن واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔

محمد عباس نے ٹیسٹ کرکٹ میں جو شاندار کارکردگی دکھائی اس کے بعد کچھ لوگوں کا یہ خیال تھا کہ انھیں محدود اوورز میں بھی آزمایا جائے۔ وہ پی ایس ایل میں ملتان سلطانز کی جانب سے صرف تین میچ کھیل پائے۔

آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے کریئر کا آغاز کرتے ہوئے انھیں تین میچوں میں کھیلنے کا موقع ملا لیکن وہ صرف ایک وکٹ حاصل کر پائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یاسر شاہ ٹیسٹ کے فتح گر بولر ہیں لیکن ون ڈے فارمیٹ میں وہ زمبابوے کے خلاف چار سال پہلے چھ وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے سوا کبھی بھی کامیاب نہیں رہے ہیں۔

آسٹریلیا کے خلاف پانچوں میچ کھیل کر وہ صرف چار وکٹیں حاصل کر سکے اور وہ بھی 70 رنز کی بھاری اوسط کے ساتھ۔ اگر ورلڈ کپ میں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے تو یہ ایک مہنگا سودا ثابت ہو سکتا ہے۔

عمر اکمل نے پی ایس ایل میں چند ایک اچھی اننگز کھیل کر مکی آرتھر کو دوبارہ اپنے لیے نرم گوشہ اختیار کرنے پر مجبور کیا لیکن آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں وہ جس انداز سے اپنی وکٹ پھینک کر گئے اس نے ان کے ورلڈ کپ میں کھیلنے کے امکان کو نہ ہونے کے برابر کر دیا ہے بلکہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کے ایک اور واقعے کے بعد کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ عمراکمل نے اپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی مار دی ہے۔


مزید معلومات کے لئے ویڈیو دیکھیں۔




آئی سی سی نے ایک روزہ کرکٹ کی عالمی رینکنگ کا اعلان کر دیا، آسٹریلیا نے عرب امارات میں پاکستان کو ون ڈے سیریز میں  0-5 سے شکست دی اور لیکن اس سے ٹیم کے پوائنٹس ٹیبل میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوا اور وہ 108 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں پوزیشن پر ہی براجمان ہے ۔

ون ڈے کی نئی عالمی درجہ بندی میں انگلینڈ کی ٹیم 123 پوائنٹس کے ساتھ پہلے جب کہ انڈیا 120 پوائنٹس سے دوسرے نمبر پر براجمان ہے، نیوزی لینڈ 112 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے، جنوبی افریقہ 112 پوائنٹس ہی کے سے چوتھے نمبر پر ہے۔ آسٹریلیا سے کلین سوئپ شکست کے بعد
پاکستانی ٹیم 100 پوائنٹس سے 97 پوائنٹس پر سرک گئی لیکن اس کی چھٹی پوزیشن برقرار ہے۔
دوسری جانب ٹیسٹ رینکنگ میں بدستور بھارت سر فہرست ہے جب کہ پاکستانی ٹیم ساتویں پوزیشن پر قبضہ جمائے ہوئے ہے۔ بنگلا دیش کے خلاف سیریز میں کامیابی کے بعد نیوزی لینڈ 108 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، 105 پوائنٹس کے ہمراہ جنوبی افریقہ کی تیسری پوزیشن ہے۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ دونوں کے 104 پوائنٹس ہیں اور یہ عالمی رینکنگ میں بالترتیب چوتھے اور پانچویں پوزیشن پر براجمان ہیں۔ سری لنکا کی 93 پوائنٹس کے ساتھ چھٹی پوزیشن ہے جبکہ پاکستان88 پوائنٹس کے ساتھ ساتویں پوزیشن پر قبضہ جمائے ہوئے ہے،77پوائنٹس کے ساتھ ویسٹ انڈیز آٹھویں، 69 پوائنٹس کے ساتھ بنگلا دیش نویں اور 13 پوائنٹس کے ہمراہ زمبابوے دسویں نمبر پرہے۔