Articles by "پاکستان"
Showing posts with label پاکستان. Show all posts


پاکستان کتنا طاقتور ہے؟
 سرد جنگ کا دور ہو یا دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جن کا عالمی امور میں بہت اہم کردار رہتا ہے ۔ایسے میں جب امریکہ اور پاکستان کے مفادات ایک ہو جاتے ہیں تو دونوں ممالک ایک دوسرے کے بہت قریب آجاتے ہیں۔ اور جب مفادات ٹکرانے لگتے ہیں تو پاکستان پر امریکی پابندیاں لگا دیتا ہے۔ اور پاکستان امریکہ سے تعاون کم کرنے لگتا ہے۔ پاکستان کی عالمی سیاست میں کیا اہمیت ہے اور 21 کروڑ سے زائد آبادی کا یہ ملک کتنا طاقتور ہے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا زبردست جغرافیہ ہے سب سے پہلی بات تو یہ کہ پاکستان ایشیاء میں واقع ہے جو تیزی سے عالمی سیاست اور معیشت کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
 پاکستان کے مشرق اور شمال میں دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک بھارت اور چین ہیں۔ چین کو افریقہ اور عرب ریاستوں سے تجارت کے لیے اور بھارت کو مغرب میں وسط ایشیا تک ٹریڈ روٹس کے لیے پاکستان سے بہتر راستہ میسر نہیں جبکہ شمال مغرب میں واقع افغانستان کو سمندر تک رسائی کے لیے بھی پاکستان کا ساتھ چاہیے۔مستقبل کے منظرنامے میں ایشیا کا یہ خطہ اتنا اہم ہے کہ امریکہ بھی نائن الیون کے بعد سے افغانستان میں مستقل ڈیرے ڈال چکا ہے ۔دفاعی اعتبار سے دیکھیں تو پاکستان کے پاس دنیا کی پانچویں سب سے بڑی فوج ہے۔ جس کی تعداد چھ لاکھ 20 ہزار ہے ۔عالمی رینکنگ میں پاکستان کی فوج کو دنیا کی گیارہویں سب سے طاقتور فوج مانا جاتا ہے حالانکہ دفاع پر خرچ کرنے کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں 23ویں نمبر پر ہے ۔ پاک فوج کی طاقت کا اندازہ اس بات سےلگائیں کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے ہے جس نے دہشتگردی کے اندرونی نیٹ ورک کو دس سال سے بھی کم عرصے میں کچل کر رکھ دیا۔ یاد رکھے یہی چیلنج شام لیبیا یمن اور عراق بھی درپیش تھا لیکن یہ تمام ممالک ان خطرات کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے اور خانہ جنگی کا شکار ہو گئے۔ اسی طرح افغانستان میں امریکہ اور 70 ملکوں کا فوجی اتحاد سترہ سال میں مسلح گروہوں کو شکست نہیں دے سکا ۔
پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے پاکستان دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جو تھرڈ اور فورتھ جنریشن کے فائٹر جیٹس آب دوزے جنگی بحری جہاز اور سیٹلائٹس تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا نوجوان آبادی کے اعتبار سے پانچواں اور رقبے کے لحاظ سے پینتیسواں بڑا ملک ہے۔ معاشی میدان میں دیکھا جائے تو پاکستان پرچیزنگ پاورکے لحاظ سے دنیا کی چوبیسویں اور جی ڈی پی کے اعتبار سے اکتالیسویں بڑی اکانومی ہے۔ یعنی پاکستا ن کی مالی صورتحال دنیا کے ڈیڑھ سو ممالک سے بہتر ہے۔ پاکستانیوں کی سالانہ اوسط انکم 1629 ڈالر ہے جو اس خطے میں بھارت اور بنگلہ دیش سے زیادہ ہے۔ 
عالمی معاشی اداروں کے مطابق پاکستان 2030 تک دنیا کی بیسویں بڑی معاشی طاقت بننے کی طرف جارہا ہے جبکہ 2050 تک پاکستان اٹلی اور کینیڈا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی سو لویں بڑی معیشت بن سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اور امن کا تسلسل برقرار رہے۔ پاکستانی معیشت کی کمزوری یہ ہے کہ اس کا زیادہ انحصار زراعت کے شعبے پر ہے ۔ زیادہ پانی اور زرخیز زمین ہونے کے باوجود پاکستان کی زرعی پیداوار عالمی معیار سے کم ہے جس کی بڑی بنیادی وجہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کرنا ہے۔
پاکستان اپنی زراعت اور صنعت میں جدد لائے تواسے تیزی سے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان کو دنیا کی تین بڑی عالمی طاقتوں چین، روس اور ترکی کے قریب تک دیکھا جاتا ہے۔ جب کے امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ سےپاکستان کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں۔ سی پیک کے باعث پاکستان کے اہمیت مزید بڑھ رہی ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ ممالک تجارتی مقاصد کے لئے پاکستان کا رُخ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان کی بڑی کمزوری اِس کے ہمسایہ ممالک بھارت اور افغانستان سے خراب تعلقات ہیں۔ مختصر یہ کہ پاکستان ایک بہت بڑے جغرافیے اور آبادی والے ممالک کے درمیان قائم ایک مضبوط اور طاقتور ملک ہے اس کی قوت کا بڑا حصہ اس کی بڑی آبادی ،اہم جغرافیائیے،طاقتور فوج اور چین کے ساتھ تعلقات سے جڑا ہوا ہے



معزز دوستوں السلام علیکم علیکم دوستو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی احادیث مبارکہ میں قیامت کی دس نشانیوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک علامت زلزلوں کا پہ درپے آنابھی ہوگا ایک وقت ایسا تھا کہ اگر کہیں سے اطلاع ملتی کہ فلاں جگہ زلزلہ آیا ہے تو وہاں کے لوگ فورا توبہ استغفار کرنا شروع کر دیتے تھے لیکن آج کل ہر وقت کہیں نہ کہیں زلزلے نمودار ہو رہے ہیں اور ان میں جانی و مالی خسارہ الگ ہوتا ہے اور حال یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی اس بات کا علم کے زلزلے اتنی شدت کے ساتھ کیوں آتےہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ زمین کو ایک بہت بڑی چھپکلی نے اپنی پشت پر اٹھایا ہوا ہے۔ تو کسی کا خیال ہے کہ زمین کسی گائے کے سینگوں پر قائم ہے۔ اور جب یہ گائے اپنے سینگ ہلاتے ہیں تو زلزلے آتے ہیں۔ جب کہ مذہبی عقیدے کے لوگ یہ کہتے تھے کہ اللہ اپنے نافرمان بندوں کو ان زلزلوں کی وجہ سے ڈراتا ہے جبکہ ارسطو اور افلاطون کی نظریات ملتے جلتے تھے۔ جن کے مطابق زمین کی تہوں میں موجود ہوا جب گرم ہوکر زمین کی پرتوں کو توڑ کر باہر آنے کی کوشش کرتی ہے ۔تو زلزلے آتے ہیں لیکن دوستو سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ علم تحقیق کے دروازے بھی کھلتے چلے گئے اور اس طرح ہر نئے قدرتی سانحے کے بعد اس کے اسباب کے بارے میں جاننے کی جستجو نے پرانےنظریات کی نفی کردی لہذا اب ٹیکنالوجی کا یہ حال ہے کہ سمندری طوفان کی شدت اور ان کی زمین سے ٹکرانے کی مُدد کا تائین کر کے پہلے سے ہی حفاظتی بچاؤ کی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔ مگر زلزلے کی آمد نہایت خاموش ہوتی ہے اسکا پتا اس کی پھیلانے والی تباہ کاریوں کے بعد ہی چلتا ہے۔ ویسے تو ایسے آلات ایجاد ہو چکے ہیں جو زلزلہ گزرنے کے بعد ان کی شدت ان کے مرکز اور آفٹر شاکس کے بارے میں بتا دیتے ہیں اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین کی بیرونی سطح کے اندر مختلف گہرائیوں میں زمینی پلیٹیں ہوتی ہیں جنہیں ٹیکنو پلیٹز کہتے ہیں اور اس کے نیچے ایک پیگلا ہوا معدہ ہوتا ہے جسے میگمہ کہا جاتا ہے۔ میگمہ کی حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے زمین کی اندرونی سطح میں کرنٹ پیدا ہوتا ہے۔ جس سے ان پلیٹوں میں حرکت پیدا ہوتی ہیں اور وہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ٹوٹنے کے بعد پلیٹوں کا کچھ حصہ میگمہ میں دھنس جاتا ہے اور کچھ اوپر کو ابھر جاتا ہے ۔جس سے زمین پر بسنے والی مخلوق زمینی سطح پر حرکت محسوس کرتی ہیں اور دوستوں گزشتہ سال پیش آنے والے زلزلوں کی فہرست اگر نکال کر دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ لاہور میں آنے والا اس سال کا پہلا زلزلہ 22 اپریل کو آیا جس کے جھٹکے نہ صرف شدید ترین تھے بلکہ اس کی شدت 3.2 تھی جبکہ دوسرا زلزلہ 1 ستمبر کو رونما ہوا اور اس کی شدت 4.3 اور تیسرا زلزلہ 23 ستمبر کو لاہور اور ساہیوال سمیت دیگر شہروں میں آیا جس کی شدت 4.1 تھی اور اس کے جھٹکے بھی شدید محسوس کئے گئے اور اب جرمنی سے پی ایچ ڈی کرنے والے ماہر خلائی سانسس اور پنجاب یونیورسٹی شعبہ سپیس کے چیئرمین ڈاکٹر عامر محمود صاحب نے پیشنگوئی کی ہے کہ ہندوکش سے زلزلہ نکلے گا جو لاہور آ کر اس کو دو حصوں میں تقسیم کردے گا اور لاہور کا ایک حصہ لاہور طرسٹ کے نام سے بن جائے گا بعد میں یہی زلزلہ ملک کے باقی حصوں پھیلتا ہوا تباہی و بربادی پھیلائے گا لیکن اس کا کوئی ٹائم پیریڈ نہیں دیا گیا پھر اللہ بہتر جانتا ہے کہ ایسا ہوگا یا نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے کیا ہم اللہ سے سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہے یا ہماری بد اعمالیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ عرش والا بار بار اس زمین کو ہلاکر ہمیں جنچھوڑ رہا ہے کیا 2005 والے زلزلے کی تباہی سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا اللہ فرماتا ہے اگر تم میرے دین سے منحرف ہو جاؤ تو بہت جلد میں تمہیں ہٹا کر اپنے ایسے بندے لے کر آؤں گا جو مجھ سے محبت کرتے ہو اور جن سے محبت کروں گا اور وہ جہاد کریں گے میری راہ میں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے اللہ بڑی کشاکش رکھنے والا اور خبردار ہے المائدہ 2 دوستوں ہمارے پاس سدھرنے کا وقت ہے اللہ ہمیں اپنے دین پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے عذاب سے ہمیں بچائے آمین


 وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو ملک کی جمہوری تاریخ میں ایک سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔تاریخ نے اعتراف کیا ہے کہ قائد جمہوریت کو بے جرم ہی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ تاہم یہاں ان کی زندگی کے آخری چند گھنٹوں کے حوالے سے
کچھ حیران کن معلومات دی جا رہی ہیں۔ملکی تاریخ کے معروف ترین صحافی ادیب جاودانی نےلکھا ہےکہ جب اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے جیل سپرنٹنڈنٹ یار محمد کو حکم جاری کر دیا جائے گا بھٹو کو دوبجے پھا نسی دے دی جائے تو یار محمد نے اپنے ماتحتو ں کاظم بلوچ اور مجید قریشی کو حکم دیا کہ کال کوٹھڑی میں بند بھٹو کو پیغام پہنچا دو کہ دو بجے ان کو پھانسی دے دی جائے گی۔ یہ بھی ہدایت کی گئی کہ اگر وہ کوئی وصیت لکھنا چاہتے ہوں تو انھیں کاغذ اور قلم فراہم کر دیا جائے۔ اس پر مجید قریشی ان کے پاس آیا اور بتایا کہ مجھے افسوس ہے کہ آپ کی زندگی کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔جس پر بھٹو نے غیر یقینی انداز میں مجید قریشی کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ کیا نصرت کی ضیا الحقسے ملاقات نہیں ہوئی؟ نفی میں جواب ملنے پر انھوں نے دوبارہ پوچھا کہ کیا واقعی وہ ایسا کرنے والے ہیں؟ مجید قریشی نے بتایا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ میں وصیت کے لیئےکاغذ اور قلم آپ کو دے دوں۔مجید قریشی وہاں سے چلا گیا اور بھٹو کافی دیر تک ان پرکچھ لکھتے رہے اورپھر سارے کاغذ پھاڑ ڈالے۔رات ایک بجے
مجید قریشی دوبارہ کال کوٹھڑی میں آیا ۔ اس نے دیکھا کہ ذوالفقار بھٹو بالکل بے حس و حرکت پڑے ۔وہ گھبرا گیا اور بھاگ کر جیل حکام کو بلا لایا۔سب نے آکر بھٹو کو دیکھا ان کی نبض دیکھی تومعلوم ہوا کہ وہ سو رہے ہیں۔انھیںجگایا گیا اور بتایا گیا کہ ان کے آخری غسل کےلئے پانی تیار ہے۔انھوںنے جوا ب دیا کہ وہ پاک ہیں۔ اس کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ وہ پھانسی کے تختے تک جا سکیں گے یا سٹریچر منگوایا جائے ۔جس پر انھوں نے تعاون سے صاف انکار کر دیااور انھیں سٹریچر پر لے جایا گیا۔ انھوںنے اداسی سے جیل کی کال کوٹھڑی پر نگاہ ڈالی۔ وہاں سے انھیں تختے تک لے جایا گیا۔تارا مسیح نے ان کے چہرے پر ماسک چڑھایا۔ اور ان کے منہ سے نکلنے والے آخری الفاظ تھے ۔” فنش” جس کے بعد تاریخ کے عظیم لیڈر کا باب تمام ہو گیا۔ فنش” جس کے بعد تاریخ کے عظیم لیڈر
کا باب تمام ہو گیا۔
شخص جسکی عمر تو 44سال مگر سر کے بال جھڑنا شروع ہوچکے ‘بالوں کی رنگت بھوری ہورہی ‘گہری پلکیں ‘ ہونٹ حتیٰ کہ آنکھوں کی پتلیاں تک تھکاوٹ زدہ اورآنکھوں میں عجیب سی اداسی جبکہ مسکراہٹ میں شرمیلا پن ‘ذوالفقار بھٹو کے ساتھ صرف 6دن گزار کر ہی میں اس نتیجے پر پہنچ گئی کہ وہ تضادات کا مجموعہ ‘جیسے سانگھڑ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے غصے اور جو ش سے دونوں بازو لہراتے وہ ایسے شخص جنہیں تالیوں اور طاقت سے پیار ‘ ہالہ کے لان میں لوگوں کو گھنٹوں انتظار کروا کر’ خوبصورت قالینوں پر شہزادوں کی طرح چلتے پھرتے ‘ انگلی کے اشارے سے لوگوں کو اپنی طرف بلاتے اور بکرے کا صدقہ دیتےوہ ایسے انسان جن کا تعلق طبقہ اشرافیہ سے’ ملٹری ہیلی کاپٹر میںچواین لائی کی دی ٹوپی پہنے میرے سامنے وہ مارکسٹ بھٹو ‘جوپاکستان کو غربت اور بھوک سے آزاد کرانے کے خواہشمند مگر اپنی کامیابی جنہیں ہر شے سے عزیز اور پرانے ایرانی قالینوں ‘ائیر کنڈیشنوں اور عالمی رہنماوں کے ساتھ کھینچی تصویروں سے بھرے راولپنڈی اور کراچی کے گھروںمیں میری ملاقات ایسے بھٹو سے ہوئی جو اندرا گاندھی ‘مجیب الرحمان اور یحییٰ خان سمیت اپنے سیاسی دشمنوں پر حملے کر رہے ‘ جو خوبصورت باتیں کرنے اور کتابیں پڑھنے
کے شوقین ۔ایک دن بھٹو صاحب بولے ” شیخ مجیب پیدائشی جھوٹا ‘جھوٹ اسکی فطرت میں ‘ وہ بیمار ذہن کا جنونی ‘ مجھ پر یہ جھوٹا الزام لگادیا کہ بنگالیوں کی قتل وغارت یاوحشیانہ تشدد میں نے کروایا’ یہ چھوڑیں اس نے تو ایک بار سمندری طوفان میں مرنے والوں کا الزام مجھ پر لگا دیا ‘جیسے سمندری طوفان میں نے بھیجا ‘ پھر وہ یہ سفید جھوٹ بھی بول چکا کہ جب گرفتار ہوا تو اس نے مقدمے کو ا س قابل ہی نہ سمجھا کہ دفاع کرے اور اسے جیل کے سیل میں رکھا گیاسچ یہ کہ بروہی سمیت 4وکلا ء نے اس کا کیس لڑا اور اسے تمام سہولتوں سے مزین ایپارٹمنٹ میں رکھاگیا ‘ ہاں میں مانتا ہوں کہ بنگالیوں کو قتل کیا گیا ‘ان پر تشدد ہوااور سب کچھ احمقانہ اور وحشیانہ انداز میں ہوا ‘اگر میں یہ کرتا تو اسے زیادہ سمجھداری ‘تھوڑے وحشیانہ پن اور زیادہ سائنسی انداز میں کرتا ‘ مجھے اچھی طرح یاد کہ میں ڈھاکا کے ہوٹل میں سویا ہوا تھاکہ اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے آنکھ کھلی ‘میں نے اپنے دوستوں کے کمروں سے بھاگنے کی آوازیں سنیں ‘ میں اُٹھ کر کھڑکی کی طرف گیا ‘پردہ ہٹایا’سامنے دیکھا اور روپڑا ‘میرے منہ سے بس اتنا نکلا My country is finished۔ جب میرے حکم پر مجیب کو رہا کر کے میرے پاس راولپنڈی لایاجانے لگا تو یہ سوچ کر اسے شاید مارنے کیلئے لے جایاجارہا ‘وہ خوفزدہ ہو کررونے لگا ‘ خیراسے راولپنڈی کے ایک بنگلے میں پہنچاکر مجھے بتایا گیا ‘ میں ریڈیو ‘ٹیلی ویژن ‘ اور کپڑے لے کر اسکے پاس گیا



 حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کےمطابق رات کو نیند کیوں ٹھیک سے نہیں آتی


دوستوں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک شخص آتا ہے اور عرض کرتاہے اے علی رضی اللہ تعالی عنہ مجھے رات کو ٹھیک سے نیند
 نہیں آتی رات کو سو نہیں پاتا اور جب صبح اٹھتا ہوں تو پورے جسم میں درد رہتا ہے اور وہ درد بڑھتا رہتا ہے ۔جب وہ اپنا درد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بیان کر چکا تو انہوں نے اس شخص سے فرمایا کہ اے شخص اگر تم رات کو پانی پیتے ہو تو پانی پینا بند کردو کیونکہ ایسا کرنا صحت کے لیے انتہائی نامناسب ہے اور رات کو پانی پینے سے جسم میں ایسا درد شروع ہوجاتا ہے۔ اگر اللہ پاک اسے شفا دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ورنہ اس کا علاج ناممکن ہے ۔
دوستو پانی جسم کے لیے ایک بہت اہم چیز ہے ۔جب ہم مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتے تو ہمارے جسم سے پانی خوشک ہو جاتا ہے اور اکثر رات کے وقت میں پانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور اکثر لوگ رات کو نیند سے اٹھ کر پانی پیتے ہیں ۔لیکن اب جدید میڈیکل سائنس نے بھی رات کے وقت پانی پینے سے منع کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ بستر پر جانے سے قبل پانی کا استعمال نیند کو متاثر کرتا ہے اور اس عادت کے نتیجے میں رات کو بیت الخلا کے لئے بار بار اٹھنا پڑتا ہے اور جب انسان گرم بستر سے ایک دم واش روم جاتا ہے تو جسم ٹھنڈا پڑجاتا ہے ۔جو صحت کے لیے نقصان دہ ہیں اور دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق گردوں کے ساتھ ہیں آپ سب جانتے ہی ہونگے کہ رات کو گردے اپنے کام میں بہت آہستہ ہوجاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد صبح اٹھنے پر چہرے اور ہاتھوں پر سوجن کا شکار ہوتے ہیں ہیں۔ اس لیے رات کو سونے سے قبل پانی پینا ایسے افراد کے لیے مسئلہ پڑھا سکتا ہے اور تیسری بڑی وجہ اگر آپ سونے سے قبل پانی پیتے ہیں تو یہ آپ کی نیند میں مداخلت کا سبب بنتا ہے ۔وزن کم کرنے کے لیے پانی کی طرح نیند بھی ایک اہم چیز ہے اور میڈیکل سائنس بھی یہی کہتی ہے کہ چھ سے آٹھ گھنٹے کی نیند ہماری زندگی میں ایک تبدیلی لا سکتی ہیں ۔سائنس کے مطابق وہ لوگ جو کم سوتے ہیں اور وہ لوگ جو زیادہ نیند لیتے ہیں ۔ان کے وزن بڑھنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
 خواتین و حضرات اسی طرح کھڑے ہو کر پانی پینا اخلاقیات کے خلاف سمجھا جاتا ہے اور اس حوالے سے اب ماہرین بھی بہت سے مشورے دے رہے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق کھڑے ہو کر پانی پینے سے نہ صرف ہماری سانس میں کھچاؤ پیدا ہوتا ہے بلکہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے آپ کے پینے کی رفتار تیز ہو جاتی ہیں ۔جس کی وجہ سے جوڑوں کو نقصان پہنچتا ہے ہے ماہرین کے مطابق جس طریقے سے ہم آہستہ آہستہ کھانا کھاتے ہیں۔ اسی طرح پانی بھی آرام سے بیٹھ کر اور آہستہ آہستہ پینا چاہیے جلدی جلدی پانی پینے سے جسم میں آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے ۔جس سے دل اور پھیپھڑوں کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اس لیے ماہرین ہمیں اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے بیٹھ کر سکون سے پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں ۔جب ہم کھڑے ہوکر پانی پیتے ہیں تو یہ معدے کی دیوار سے ٹکراتاہے اور لہر کی شکل میں نیچے جاتا ہے یہ لہر معدے کی دیوار اردگرد موجود اجزاء اور غذائی نالی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہیں ہیں طویل مدت تک یہ مشق نظامِ ہاضمہ کے افعال کو متاثر کرسکتی ہیں۔ اللہ ہمیں صحت مند زندگی عطا فرمائے آمین ۔

پاکستان کے معروف صحافی اور تجزیہ کار سمیع ابراہیم نے دعویٰ کیا ہے اگلے چند روز میں پاکستان کے خلاف بڑی سازش ہونے والی ہے جس کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس سازش میں بھارت اور امریکہشامل ہیں جبکہ پاکستان کے ادروں میں موجود وہ لو گ بھی ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں جو ان کے لیے کام کرتے ہیں۔

سمیع ابراہیم نے بتایا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو اس سازش کے تحت ہٹایا جائے گا اورفوج کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سمیع ابراہیم نے انکشاف کیا ہے کہ تحریکِ انصاف کے اندر بھی لوگ اس سازش کا حصہ ہیں۔ اور فواد چوہدری اس تحریک کو لیڈ کریں گے جبکہ انکا رابطہ پی پی پی کے ساتھ ہے۔ جب حکومت بنی تو وہ وزیراعلیٰ پنجاببننا چاہتے تھے اور انہوں نے دوستوں اور صحافیوں کے ذریعے کوشش کی تھی کہ وہ وزیراعلیٰ بن جائیں۔



شیخ رشید نے جیو کے ٹاک شو میں کہا ہے کہ ہو سکتا ہے اسد عمر دو بارہ کا ینہ کا حصہ بنیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسد عمر نہایت ہی نفیس آدمی ہیں اور بہت مخنتی بھی۔ 
اینکر نے جب فواد چوہدری کے بارے میں سوال کیا تو کہا کہ میں فواد کی پرفارمنس سے کافی خوش ہوں۔ اس نے کافی اچھے کام کیے لیکن خاں صاحب کا متعمائیں نہیں کر سکا۔
اینکر نے سوال کیا کہ اس کا مطلب آپ مانتے ہیں کہ خان صاحب نے غلط فیصلہ کیا۔
جس پر شیخ رشید نے اپنے انداز میں جواب دیا کہ آپ یہ شرارت والے سوال نا کریں۔
آپ جو سننا چاہتے ہیں سہ میں نہیں کہوں گا۔
لحاظہ چلاکی والے سوالات نا کریں

ویڈیو دیکھیں۔

https://youtu.be/EvE1z0kBGks








ذوالفقار علی بھٹو کی چالیسویں برسی کی مرکزی تقریب آج گڑھی خدا بخش بھٹو لاڑکانہ میں ہوگی جہاں ملک بھر سے جیالے کارکنان قائد عوام کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچیں گے، اس موقع پر گڑھی خدا بخش میں مرکزی جلسہ ہوگا جلسے کی شرکا سے پیپلزپارٹی قائدین خطاب کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے 40 ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں انھیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف قائد اعظم کے ویژن و جدوجہد نے تاریخ کا رخ موڑ کر ایک نئی قوم کو جنم دیا تو قائدعوام کی فکر و سیاست نے عوامی شعور کا ایک ایسا انقلاب بپا کیا کہ رجعت پرست، شاوَنسٹ اور جمہور دشمن قوتیں اب پاکستان میں اپنی مرضی کے نقاب نہیں لگا سکتیں۔ بلاول نے مزید کہا کہ ذوالفقار بھٹو نے ایک طرف ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی بنیاد رکھی تو آزادی کے ثمرات کو ملک کے محنت کش و پسماندہ طبقات تک پہنچانے کے لیے عوام دوست انقلابی پالیسیاں لاگو کیں۔

بھٹو نے آخری غسل سے کیا کہہ کر انکار کر دیا؟ ایک بڑی وجہ سامنے آگئی۔
دیکھیے اِس ویڈیو میں




وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو جیل سے رہا ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا تاہم ان کے کسی اسپتال میں داخل ہونے کی ابھی خبر نہیں آئی، امید ہے نوازشریف خیریت سے ہوں گے، مریم نواز کے ٹوئٹ بھی بند ہوگئے ہیں، روز بیماری سے اپ ڈیٹ رکھنے والی مریم نواز نے بھی کافی دن سے ٹوئٹ نہیں کیا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ سوچ رہا ہوں کہ نوازشریف کو خط لکھوں جس میں ان سے خیریت پوچھنا چاہتا ہوں،امید ہے جیل سے گھر جانے کے بعد تناؤ میں کمی اور خوشگوار ماحول میسر آیا ہے، اب نوازشریف خوشگوار ماحول میں ملک کی لوٹی دولت واپس کرنے کا بھی سوچیں، نوازشریف کو جلد یا دیر سے لوٹی دولت واپس کرنا ہی ہوگی۔


اک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران پاک فوج کی جانب سے ایف 16 طیارے کے استعمال پر ترجمان پاک فوج  نے کہا کہ 27 فروری کا واقعہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ  جب 2 بھارتی طیاروں نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی تو انہیں پاک فضائیہ نے نشانہ بنایا، ان دو بھارتی طیاروں کو ایف سولہ
نے نشانہ بنایا یا جے ایف 17 نے، یہ سوال بے معنی ہے، پاک فضائیہ نے دونوں طیاروں کو اپنے دفاع میں مار گرایا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جب بھارتی طیارے پاکستانی حدود میں آئے تو فضائیہ کے  جہاز بشمول ایف 16 فضا میں موجود تھے، بھارت اپنی خواہش کے مطابق  ایف 16 یا کوئی بھی جہاز چُن لے اس سے نتیجے پر فرق نہیں پڑتا، اگر ایف 16 استعمال ہوا تب بھی دو بھارتی  طیارے ہی نشانہ بنے، پاکستان اپنے دفاع کے لیے اپنی ہر صلاحیت کا مرضی کے مطابق استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے۔