August 2019



معزز دوستوں السلام علیکم علیکم دوستو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی احادیث مبارکہ میں قیامت کی دس نشانیوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک علامت زلزلوں کا پہ درپے آنابھی ہوگا ایک وقت ایسا تھا کہ اگر کہیں سے اطلاع ملتی کہ فلاں جگہ زلزلہ آیا ہے تو وہاں کے لوگ فورا توبہ استغفار کرنا شروع کر دیتے تھے لیکن آج کل ہر وقت کہیں نہ کہیں زلزلے نمودار ہو رہے ہیں اور ان میں جانی و مالی خسارہ الگ ہوتا ہے اور حال یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی اس بات کا علم کے زلزلے اتنی شدت کے ساتھ کیوں آتےہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ زمین کو ایک بہت بڑی چھپکلی نے اپنی پشت پر اٹھایا ہوا ہے۔ تو کسی کا خیال ہے کہ زمین کسی گائے کے سینگوں پر قائم ہے۔ اور جب یہ گائے اپنے سینگ ہلاتے ہیں تو زلزلے آتے ہیں۔ جب کہ مذہبی عقیدے کے لوگ یہ کہتے تھے کہ اللہ اپنے نافرمان بندوں کو ان زلزلوں کی وجہ سے ڈراتا ہے جبکہ ارسطو اور افلاطون کی نظریات ملتے جلتے تھے۔ جن کے مطابق زمین کی تہوں میں موجود ہوا جب گرم ہوکر زمین کی پرتوں کو توڑ کر باہر آنے کی کوشش کرتی ہے ۔تو زلزلے آتے ہیں لیکن دوستو سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ علم تحقیق کے دروازے بھی کھلتے چلے گئے اور اس طرح ہر نئے قدرتی سانحے کے بعد اس کے اسباب کے بارے میں جاننے کی جستجو نے پرانےنظریات کی نفی کردی لہذا اب ٹیکنالوجی کا یہ حال ہے کہ سمندری طوفان کی شدت اور ان کی زمین سے ٹکرانے کی مُدد کا تائین کر کے پہلے سے ہی حفاظتی بچاؤ کی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔ مگر زلزلے کی آمد نہایت خاموش ہوتی ہے اسکا پتا اس کی پھیلانے والی تباہ کاریوں کے بعد ہی چلتا ہے۔ ویسے تو ایسے آلات ایجاد ہو چکے ہیں جو زلزلہ گزرنے کے بعد ان کی شدت ان کے مرکز اور آفٹر شاکس کے بارے میں بتا دیتے ہیں اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین کی بیرونی سطح کے اندر مختلف گہرائیوں میں زمینی پلیٹیں ہوتی ہیں جنہیں ٹیکنو پلیٹز کہتے ہیں اور اس کے نیچے ایک پیگلا ہوا معدہ ہوتا ہے جسے میگمہ کہا جاتا ہے۔ میگمہ کی حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے زمین کی اندرونی سطح میں کرنٹ پیدا ہوتا ہے۔ جس سے ان پلیٹوں میں حرکت پیدا ہوتی ہیں اور وہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ٹوٹنے کے بعد پلیٹوں کا کچھ حصہ میگمہ میں دھنس جاتا ہے اور کچھ اوپر کو ابھر جاتا ہے ۔جس سے زمین پر بسنے والی مخلوق زمینی سطح پر حرکت محسوس کرتی ہیں اور دوستوں گزشتہ سال پیش آنے والے زلزلوں کی فہرست اگر نکال کر دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ لاہور میں آنے والا اس سال کا پہلا زلزلہ 22 اپریل کو آیا جس کے جھٹکے نہ صرف شدید ترین تھے بلکہ اس کی شدت 3.2 تھی جبکہ دوسرا زلزلہ 1 ستمبر کو رونما ہوا اور اس کی شدت 4.3 اور تیسرا زلزلہ 23 ستمبر کو لاہور اور ساہیوال سمیت دیگر شہروں میں آیا جس کی شدت 4.1 تھی اور اس کے جھٹکے بھی شدید محسوس کئے گئے اور اب جرمنی سے پی ایچ ڈی کرنے والے ماہر خلائی سانسس اور پنجاب یونیورسٹی شعبہ سپیس کے چیئرمین ڈاکٹر عامر محمود صاحب نے پیشنگوئی کی ہے کہ ہندوکش سے زلزلہ نکلے گا جو لاہور آ کر اس کو دو حصوں میں تقسیم کردے گا اور لاہور کا ایک حصہ لاہور طرسٹ کے نام سے بن جائے گا بعد میں یہی زلزلہ ملک کے باقی حصوں پھیلتا ہوا تباہی و بربادی پھیلائے گا لیکن اس کا کوئی ٹائم پیریڈ نہیں دیا گیا پھر اللہ بہتر جانتا ہے کہ ایسا ہوگا یا نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے کیا ہم اللہ سے سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہے یا ہماری بد اعمالیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ عرش والا بار بار اس زمین کو ہلاکر ہمیں جنچھوڑ رہا ہے کیا 2005 والے زلزلے کی تباہی سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا اللہ فرماتا ہے اگر تم میرے دین سے منحرف ہو جاؤ تو بہت جلد میں تمہیں ہٹا کر اپنے ایسے بندے لے کر آؤں گا جو مجھ سے محبت کرتے ہو اور جن سے محبت کروں گا اور وہ جہاد کریں گے میری راہ میں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے اللہ بڑی کشاکش رکھنے والا اور خبردار ہے المائدہ 2 دوستوں ہمارے پاس سدھرنے کا وقت ہے اللہ ہمیں اپنے دین پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے عذاب سے ہمیں بچائے آمین


دنیا کی سب سے امیر ترین انسان بل گیٹس کے گھر کے بارے میں آج ہم نے آپ کو بتانا ہے بل گیٹس بلاشبہ دنیا کے سب سے امیر ترین شخص ہے فولٹس کے مطابق بل گیٹس کے اثاثوں کی جو مالیت ہےوہ 79سوبلین ڈالر ہے ۔ایسی امیر ترین شخصیت کی رہائش گاہ بھی یقینا پرتعیش ہوگی اور اس میں موجود سہولیات کی صورت دلچسپی سے خالی نہ ہو گی اور یہ انتہائی حیرت انگیز گھر ہے بل گیٹس کی رہائش گاہ کو زینا ڈو دوپوائنٹ زیرو کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اس کے گھر کا زیادہ تر حصہ درختوں اور ہریالی سے گھیرا ہوا ہے۔ ڈیڑھ ایکڑ کے رقبے پر پھیلا یہ گھر درختوں کے درمیان گھیرا ہونے کی وجہ سے انتہائی زبردست معلوم ہے ۔بل گیٹس کا گھر ایک پہاڑی کے اندر تعمیر ہے سمجھ لیجئے کہ اس کی چھت خود پہاڑی زمین ہے جو کہ سرد موسم میں گرم اور گرم موسم میں ٹھنڈا رہتا ہے۔ اس گھر کی تعمیر میں 7 سال کا عرصہ لگا جوکہ 6 کروڑ 70 لاکھ ڈالر میں تعمیر ہوا بل گیٹس کا گھر زمین پر انتہائی منفرد اہمیت کا حامل ہے جس میں 24 باتھ روم ہیں جس میں دس بڑے اور چودہ چھوٹے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بل گیٹس فیملی روزانہ کی بنیاد پر پورے مہینے الگ الگ باتھ روم استعمال کرسکتی ہیں اس گھر میں ورزش کے حوالے سے ہر قسم کی جدید سہولیات موجود ہیں بل گیٹس کے اس پرتعیش گھر میں آپ کو جم کئی سوئمنگ پول سٹیم روم کے علاوہ زیر زمین میوزک سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے ۔اس پرتعیش گھر میں تقریبا 24 باتھ روم ہیں جیسا کہ میں نے پہلے آپ کو بتایا ہے اور چھ باورچی خانے بھی تعمیر کیے گئے ہیں یہ باورچی خانے گھر کے مختلف حصوں میں تعمیر ہے ۔بل گیٹس نے یہ گھر انیس سو اٹھاسی1988 میں دو ملین میں خریدا تھا جس کی ساتھ سال بعد ہی مالیت تریسٹھ ملین ڈالر ہو چکی تھی تاہم سال 2012 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یہ گھر اُس وقت ایک سو تیئس اشاریہ چون ملین کے ڈالر کی قیمت کو پہنچ چکا تھا اور موجودہ قیمت اس سے بھی زائد بتائی جاتی ہے۔ بل گیٹس وہ امیر ترین شخصیت ہے جنہوں نے گھر میں چمگادڑ کے غار کے طرز پر ایک غار بھی تعمیر کر رکھی ہے اس غار میں تین گیراج بھی ہیں جن میں 30 گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں اس کے علاوہ اس غار میں زیرزمین ایک خفیہ سٹریکچر بھی موجود ہے جس میں بآسانی دس گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ موجود ہیں۔ یہ گھر آب و ہوا کو کنٹرول کرنے والے جدید سسٹم سے آراستہ ہے گھر میں آنے والے ہر مہمان کو ایک مائیکروچپ دی جاتی ہے جس کی مدد سے وہ موسمیاتی ماحول کو کنٹرول کر سکتا ہے بل گیٹس کو خفیہ ٹیکنالوجی بہت پسند ہے اور اسی وجہ سے اس کے گھر کے کمروں کی دیواریں خفیہ سپیکروں سے آراستہ ہے اِن اسپیکر وں سے ہلکی ہلکی گانوں کی آواز آتی ہے جنہیں مہمان اپنی مرضی کے مطابق تبدیل بھی کر سکتا ہے۔ اس گھر کی سب سے خاص بات یہاں کی لائبریری ہے اکیس سو سکئر فٹ کے رقبے پر پھیلی اس لائبریری میں متعدد قدیم کتابیں موجود ہیں۔ جہاں بل گیٹس کا امیر ترین شخصیات میں شمار ہوتا ہے وہی امدادی کاموں میں بھی سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والے شخصیت کے طور پر بھی جانا جاتا ہے اس نے اپنی آدھی سے زیادہ دولت غریب ممالک کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر رکھی ہے بل گیٹس کے گھر کے بارے میں اگر مزید بات کی جائے تو گھر میں انتہائی لگژری قسم کا پندرہ سو سکائر فٹ پر مبنی ایک سینما بھی موجود ہے جو ایک وقت میں کم سے کم بیس افراد کو اپنی انتہائی سکون دہ صوفے اور کرسیوں پر لطف اندوز کر سکتا ہے گھر کا فلور حساس آلات اور وزن بتانے کی اہلیت رکھتا ہے کہ گھر میں کہاں اور کون موجود ہے اس گھر کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے یعنی اس گھر کی اس طرح سے مانیٹرنگ کی جاتی ہے کہ جو بھی جس جگہ پر موجود ہوگا اس بارے میں اس شخص کو علم ہوجائے گا جو کہ مانیٹرنگ کر رہا ہوگا اور فلور انتہائی اساس ہے اتنا احساس ہے کہ اس کے ذریعے سے جو شخص اس فلور پر چل رہا ہوگا اس کا وزن بھی بتایا جاسکے گا وہ جہاں پر موجود ہوگا یہ بھی بتایا جا سکے گا اور یہ بھی بتایا جاسکتا ہے وہ کہاں پر چل کر گیا جیسا کہ پہلے لائبریری کے بارے میں آپ کو بتایا ہے کہ بل گیٹس کو کتابوں کے مطالعہ کا بھی بہت شوق ہے کوئی ایسا دن نہیں جس دن وہ مطالعہ نہ کریں اس لیے ہی ان کے گھر میں اکیس سو سکائر ٖفٹ پر مشتمل ایک انتہائی خوبصورت لائبریری ہے جس میں دنیا جہان کی بہت ساری کتابیں بھی موجود ہیں گھر میں موجود تیئس سو اسکوائر فٹ پر استقبالیہ کمرہ ہے جس میں 22 فٹ چوڑا ایل سی ڈی ٹی وی اور ایک بڑا فائر پلیس بھی ہے جس میں ایک وقت میں کئی افراد بھی بیٹھ سکتے ہیں۔


ترکی کتناطاقتور ہے ؟ اسلامی دنیا میں اگر کوئی ایک ملک امریکی بالادستی کو چیلنج کرتا ہے تو وہ ترکی ہے اس کی ایک مثال حال ہی میں دیکھنے میں آئی جب امریکہ نے اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا عمل شروع کیا تو ترکی نے اسرائیل سے ڈپلومیٹک ریلیشنز توڑ دیے ۔ترکی کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہیں لیکن پھر بھی اس کا شمار دنیا کی بڑی طاقتوں میں ہوتا ہے آخر ترک قوم کی طاقت کیا ہے اور ترکی کتنا طاقتور ہے ہم دیکھتے ہیں اِس ویڈیو میں ۔ ویسے تو ترکی کا رقبہ پاکستان سے کم ہے اس رقبے میں موجود پانی اور آبادی بھی پاکستان سے تھوڑی ہے لیکن اس کے باوجود ترکی کی سب سے بڑی قوت اس کا جغرافیاہی ہے وہ یوں کہ یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ترکی دونوں براعظموں کا دروازہ بن چکا ہے اس جیوگرافی کی اتنی اہمیت ہے کہ امریکہ اور روس دونوں چاہتے ہیں کہ ترکی ان کے کیمپ میں رہے اور ترکی اپنی اس اہمیت کو بہت اچھے طریقے سے استعمال کرتا ہے لیکن یہی جغرافیہ ترکی کی کمزوری بھی ہےکیونکہ ہر سال ایشیا سے یورپ جانے کے خواہش مند لاکھوں لوگوں کا ایک سیلاب ترکی میں آجاتا ہے جو ترقی کے لیے بڑا معاشی چیلنج کھڑا کر دیتا ہے یورپ سمجھتا ہے کہ ترکی ایسے تارکین وطن کو روکے گا جبکہ ترکی کے لیے انہیں روکنا اپنے ملک میں ٹھہرانا یا واپس بھیجنا تینوں کام ہی درد سر بن جاتے ہیں۔ 2015 میں ایلان کردی کی ترک ساحل سے ملنے والی لاش نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا تھا ترکی یورپی یونین کا رکن بننا چاہتا ہے لیکن اس کا جغرافیہ ہیں اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ یورپی یونین کے شہری بغیر ویزے کے سارے یورپ میں گھوم سکتے ہیں اگر ترکی یورپی یونین کا رکن بنتا ہے تو ہر سال ایشیا سے آنے والے لاکھوں تارکین وطن بھی باآسانی یورپ میں چلے جائیں گے اس لیے ترکی کی سر توڑ کوشش کے باوجود یورپی یونین ا سے اپنا رکن بنانے سے انکاری ہے۔ معاشی لحاظ سے دیکھیں تو ترکی 863 ڈالر جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کے سترویں بڑی معاشی طاقت ہے ترک معیشت میں سیاحت ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ہر سال دنیا بھر سے ستر لاکھ سیاح یہاں آتے ہیں اس کے علاوہ ترقی میں گاڑیوں الیکٹرونکس اور ٹیکسٹائل کے صنعت نے بھی بہت ترقی کی ہے فوجی میدان میں ترکی کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے ترکی دنیا کی آٹھویں بڑی فوجی طاقت ہے جبکہ پاکستان تیرویں بھارت چوتھی اور چین تیسری بڑی فوجی طاقت ہیں۔ نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے کوئی ملک ترکی کے فوجی مفادات کو براہ راست نقصان نہیں پہنچا سکتا ایسا کرنے کی صورت میں اسے مغربی فوجی اتحاد نیٹو سےبھی جنگ کرنا پڑے گی نیٹو اتحاد میں امریکہ کے بعد سب سے بڑی فوج ترکی کی ہی ہیں جس کی تعداد چار لاکھ دس ہزار ہے ترکی کے پاس ایک ہزار اٹھارہ لڑاکا طیارےہیں ۔ ترکی امریکہ کے تعاون سے ایف سکسٹین مینفیکچر بھی کرتا ہے جبکہ نیٹو کا رکن ہونے کے ناطے اسے ریڈار کی نظروں سے بچ کر اڑنے والے امریکی ایف 35 طیارے بھی ملیں گے ۔لیکن اس کے لیے امریکہ ترکی تعلقات میں آئی خرابی کو بھی ٹھیک کرنا ہوگا ۔امریکی دباؤ کے باوجود ترکی نیٹو کا واحد رکن ملک ہے ۔جو روس سے جدید میزائل ڈیفنس سسٹم خرید رہاہے ۔ترکی کو اپنے جغرافیے اور اسلامی ممالک میں اہمیت کی وجہ سے وسیع سیاسی قوت بھی حاصل ہیں۔ جب امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تو ترکی کے صدر طیب اردگان نے اسلامی ممالک کا اجلاس بلاکر بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دے دیا ۔ترکی کے اس اقدام نے مسلمانوں کے دل جیت لیے تھے۔ تاہم جدید فوج اور معاشی طاقت کے باوجود ترکی تیزی سے مسائل کا شکار بھی ہو رہا ہے جن میں دو مسائل بہت بڑے ہیں ۔پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ ترکی کی کرد اقلیت نے آزادی کی تحریک شروع کر رکھی ہے۔ ان کردوں نے اب ترکی کی سرحد کے ساتھ شام اور عراق میں بھی اپنے فوجی اڈے قائم کر لیے ہیں ۔ترکی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شام کے شمالی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے ۔اور عراق میں بھی اس کی فوج داخل ہوچکی ہیں ۔اسی فوجی مداخلت کی وجہ سے ترکی کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ترکی کا دوسرا بڑا مسئلہ یورپی یونین اور امریکا سے خراب تعلقات ہیں۔یورپی یونین کو کردوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں پر ترکی سے شکایت ہے۔ لیکن امریکہ سے ترکی کے اختلافات کی وجہ سے زیادہ سنگین نوعیت کی ہے۔ 2016 میں جب ترک عوام نے فوجی بغاوت کو ناکام بنایا ۔تو اس سازش کا الزام ترکی نے فتح اللہ گولن پر لگایا تھا ۔فتح اللہ گولن اُس وقت امریکہ میں بیٹھے تھے۔ ترکی کے مطالبے کے باوجود امریکہ نے فتح اللہ غولن کو ترقی کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔یہ الزام بھی سامنے آیا کہ ترکی میں امریکی فضائی اڈا بھی فوجی بغاوت میں استعمال ہوا ہے۔ ان واقعات کے بعد ترکی نے امریکی کیمپ سے ہٹ کر روس سے تعلقات بڑھانا شروع کر دیئے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ترکی تیزی سے روس اور ایران کے قریب آ رہا ہے پاکستان اور قطر سے بھی اس کے بہترین تعلقات ہیں تاہم شام ایران اسرائیل سعودی عرب اور امریکہ سے اس کے تعلقات کافی حد تک کشیدہ ہوچکے ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو ترکی اپنی بہترین جغرافیائی پوزیشن معاشی ترقی نیٹو کی ر کنیت اور فوجی طاقت کی وجہ سے دنیا کی بڑی طاقت ہے ۔تاہم کردوں کی بغاوت امریکہ اور یورپ سے مسلسل کشیدہ تعلقات اور ہمسایہ ممالک کے بگڑتی صورتحال نے ترکی کے لئے بڑے چیلنچ پیدا کر دیے ہیں ۔